چینی محققین نے مٹی کے تودے کی زیادہ موثر نگرانی کا طریقہ وضع کرلیا

26 جولائی 2019 کو فضا سے لی گئی تصویر میں جنوب مغربی چین کے صوبہ گوئی ژو کے جی چھانگ شہر کے پھِنگ دی گاؤں میں لینڈ سلائیڈ کی جگہ کو دکھایا گیا ہے(شِنہوا)

بیجنگ (شِنہوا) چینی محققین نےمٹی کے تودے کی زیادہ موثر نگرانی کے لئے دور فاصلے سے محسوس کرنے  کا ایک بہتر طریقہ کار وضع کرلیا ہے۔سینتھیٹک اپرچر راڈار نامی(ایس اے آر)طریقہ کار مٹی کے تودے سے متاثرہ علاقوں کی طویل مدت  نگرانی کے لئے ایک ممکنہ تکنیک ہے۔

لینڈ سلایڈنگ سے آگاہی کا روایتی پکسل آفسیٹ  طریقہ کار تیز رفتاری سے گرنے والے تودوں سے باخبر رہنے کا بہتر طریقہ ہے، تاہم پھر بھی یہ ایک محدود طریقہ کار ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز کے محققین نے زیادہ موثر ورک فلو  کے  لئے آفسیٹ سے باخبر رہنے کے زیادہ بہتر طریقے تجویز کئے ہیں ، نیز یکساں نمونوں  پر مبنی ایک بہتر الگورتھم بھی پیش کی ہے۔

محققین نے مٹی کے تودے کے ارتقاء کا مطالعہ کرنے کے لئے مجوزہ طریقہ کا اطلاق 2018 میں جنوب مغربی چین کے تبت خود اخیتار خطے میں پیش آںے والے واقعے  جس میں گاؤفین3 سیٹلائٹ اور ایڈوانسڈ لینڈ آبزرورنگ سیٹلائٹ 2 (اے ایل او ایس 2) کے ایس اے آر  ڈیٹا کا استعمال کیا گیا تھا۔

روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں مجوزہ طریقہ میں اعلی کارکردگی اور یقین کا مظاہرہ کیا گیا ، یہ تحقیقی مضمون حال ہی میں ریموٹ سینسنگ آف ماحولیات نامی جریدے میں شائع ہوا۔

مطالعے میں  محققین نے یہ بات پیش کی ہے کہ ایس اے آر ریموٹ سینسنگ لینڈ سلائیڈ مانیٹرنگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔