چین کے 54ویں بے دو سیٹلائیٹ نے نیٹ ورک میں کام شروع کر دیا

چین نے جنوب مغربی صوبے سیچھوان کے شی چھانگ سیٹلائیٹ لانچ سنٹر سے چین کے بے دو نیویگیشن سیٹلائیٹ نظام (بی ڈی ایس) کے نئے مصنوعی سیارے کو خلا میں بھیج دیا۔ یہ بے دو خاندان کا 54واں مصنوعی سیارہ ہے جسے منصوبے کے مطابق مال بردار راکٹ لانگ مارچ 3بی کے ذریعے جغرافیائی مدار میں بھیج دیا گیا ہے۔(شِنہوا)

بیجنگ(شِنہوا) چینی سیٹلائیٹ نیویگیشن نظام کے انتظامی دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق بے دو نیویگیشن سیٹلائیٹ نظام (بی ڈی ایس) کے 54ویں مصنوعی سیارے نے مدار میں ٹیسٹ اور نیٹ ورک تک رسائی کی جانچ پڑتال کے بعد نیٹ ورک میں کام شروع کر دیا ہے۔

شی چھانگ سیٹلائیٹ لانچ سنٹر سے 9 مارچ کو خلا میں بھیجا جانیوالا یہ مصنوعی سیارہ  بی ڈی ایس نظام کے جغرافیائی ارضیائی مدار کا مصنوئی سیارہ ہے جسے چین کی اکیڈمی آف سپیس ٹیکنالوجی نے تیار کیا ہے۔

دفتر نے بتایا کہ یہ مصنوعی سیارہ صارفین کو پوزیشنگ ، نیویگیشن اور وقت کی خدمات فراہم کریگا اور نظام کی مضبوطی کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔

مرکز سے منسلک ذرائع نے کہا کہ چین کے شمال مغربی شانشی میں قائم چائنا شی آن سیٹلائیٹ کنٹرول سنٹر مدار کے اندر موجود مصنوعی سیارے کی دیکھ بھال میں مدد فراہم کرتا ہے۔

بی ڈی ایس چین کا آزادانہ طور پر تیار اور چلنے والا عالمی نیویگیشن سسٹم ہے۔ یہ جون میں بے دو  خاندان کے 55ویں اور آخری مصنوعی سیارے کے لانچ کے ساتھ پوری طرح سے مکمل ہو جائے گا۔ مصنوعی سیارہ اور اسے لے جانے والے راکٹ دونوں کو لانچ کی جگہ پر بھیج دیا گیا ہے اور آئندہ لانچنگ کی تیاریاں جاری ہیں۔