کوویڈ-19 سے 6 کروڑ لوگ انتہائی غربت کا شکار ہوسکتے ہیں:صدر عالمی بینک

بھارت کے شہر غازی آباد میں کوویڈ-19 کی روک تھام کے لئے توسیع شدہ لاک ڈاون کے دوران اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کے لئے پھنسے مہاجر مزدوروں کا ایک خاندان بس میں سوار ہونے کے لئے قطار میں کھڑا ہے۔(شِنہوا)

واشنگٹن (شِنہوا)عالمی بینک گروپ کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے کہا ہے کہ عالمی معیشت کو کوویڈ- 19 کی وبا سے تباہ کن دھچکا لگا ہے جس کی وجہ سے رواں سال 6 کروڑ  سے زیادہ افراد کے انتہائی غربت کا شکار ہونے کا خطرہ ہے۔

مالپاس نے منگل کو عالمی اقتصادیات کے امکانات کی رپورٹ کے تجزیاتی ابواب کے اجراء کے موقع پر ایک پریس کال میں  کہا کہ کوویڈ-19 کی وبا سے ترقی پذیر ممالک کو صحت اور معیشت کے  شعبوں میں ایک  غیر معمولی  بحران کا سامنا ہے جس سے  دہائیوں کی ترقی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

مالپاس نے صحافیوں کو بتایا کہ غریب اور سب سے زیادہ کمزور ممالک اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں  جس کی وجہ سے سست شرح نمو سے روزگار کے مواقعوں میں کمی، درمیانے درجے کی  اعلیٰ آمدنی  اور بہتر معیار زندگی کے باعث  عدم مساوات مزید گہری ہوجائے گی۔

رپورٹ کے مطابق کوویڈ-19کی وبا سے نمٹنے کے لئے ضروری  غیر مثالی پابندیوں نے بہت ساری جدید معیشتوں اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ اور ترقی پذیر معیشتوں پر مندی  کے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔

ناقص غذائیت کا شکار ایک بچہ  یمن میں صوبہ صعدہ کے الجمہوری اسپتال میں  زیرعلاج  ہے۔ (شِنہوا)

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  اس وقت جاری  شدید کساد بازاری متعدد طریقوں سے دیرپا منفی اثرات چھوڑکر جائے گی جن  میں کم سرمایہ کاری اور جدت طرازی ، انسانی سرمائے کا خاتمہ ، عالمی تجارت اور مصنوعات کی پیداوار ترسیل کے سلسلوں میں کمی شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اثرات سے طویل مدت کے لئے نمو کے امکانات اور افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت میں بھی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی  کی وجہ سے اقتصادی بحرانوں کا شکار معیشتوں اور توانائی برآمد کنندوں  کے لئے طویل مدتی نقصان خاص طور پر شدید ہوگا۔

متعدد چیلنجز کے باوجود عالمی بینک کے صدر نے کہا کہ تاحال  سب سے بڑے کچھ  خدشات سامنے نہیں آئے۔عالمی بینک کے صدر نے کہا کہ وبائی مرض کا سامنا کرتے ہوئے عالمی بینک نقصان کو محدود کرنے اور بحالی کے لئے تیار ممالک کو مدد فراہم کرے گا تاکہ وہ اپنی معشیت کو پہلے سے بہتر اور مضبوط کرسکیں۔

انہوں نے کہاکہ آج کئے گئے پالیسی فیصلے  بشمول  نئی سرمایہ کاری کے لئے زیادہ سے زیادہ قرض کی شفافیت ، ڈیجیٹل رابطوں میں تیز ترین پیش رفت  اور غریبوں کے لئے نقد  امداد میں بڑا اضافہ  نقصان کو محدود کرنے اور مضبوط معاشی  بحالی میں مدد گار ہوگا۔

بھارت کے  شہر غازی آباد میں کوویڈ-19 کی روک تھام کے لئے توسیع شدہ لاک ڈاون کے دوران اپنے آبائی علاقوں مین واپس جانے کے لئے پھنسے مہاجر مزدور  بسوں پر  سوار ہونے کے لئے قطار میں کھڑے ہیں۔(شِنہوا)

ورلڈ بینک کے صدر نے کہا  کہ وبا کے بعد پیداواری انفراسٹرکچر کی مالی اعانت اور تعمیر ان مشکلات میں سے ایک ہے جنہیں حل کرنا سب سے مشکل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ممالک کو وبا کے بعد کے نئے ڈھانچوں میں  ایسے نظاموں کا استعمال کرتے ہوئے نتیجہ خیز شعبوں میں منظم طریقے سے سرمایہ مختص کرنے کی ضرورت  ہوگی جو  بحالی کے دوران  انسانی اور مادی سرمایے میں اضافہ اور انہیں برقرار رکھ سکیں۔

مالپاس نے مزید کہا کہ نئی ملازمتوں  ، کاروبار اور انتظامی نظام کی ضرورت ہوگی۔