کینیا ڈرونز اور موبائل ایپلی کیشنز سے صحرائی ٹڈیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگائے گا

کینیا کی کیتوئی کاؤنٹی کے کچھ علاقوں میں صحرائی ٹڈیوں کے لشکر حملہ آور ہیں۔(شِنہوا)

نیروبی (شِنہوا)کینیا کی وزارت زراعت کہا ہے کہ وہ جولائی میں صحرائی ٹڈیوں سے ہونے والے اثرات کا اندازہ لگانے کے لئے  ڈرون اور موبائل ایپلی کیشنز کا استعمال کیا جائے گا۔

کابینہ کے سیکرٹری برائے زراعت ، لائیو اسٹاک ، فشریز اور کوآپریٹیوز پیٹر منیانے کہا کہ ٹڈیوں سے بہت زیادہ متاثر ہونے والے کچھ خطوں تک رسائی مشکل ہے جہاں یہ ٹیکنالوجی کارآمد ہوگی۔

منیا نے نیروبی میں صحافیوں کو بتایا کہ  گزشتہ سال دسمبر میں ملک میں ان ٹڈیوں کی موجودگی کے بعد سے زراعت پر ہونے والے اثرات کا تعین کرنے کے لئے ریگستانی ٹڈیوں کے حملے کے اثرات کی کا پتہ چلایا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک وزراعت (ایف اے او) کی مالی مدد سے   یہ سروے کینیا کی 16 کاؤنٹیوں میں کیا جائے گا جہاں فصلوں کو صحرائی  ٹڈیوں نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ کینیا ریڈ کراس اس سروے کی قیادت کرے گا جس کے نتائج  جولائی میں باضابطہ طور پر حکومت کے حوالے کئے جائیں گے۔

کینیا کی کاونٹی کتوئی کے علاقے مونگی میں ایک کسان صحرائی ٹڈیوں کو بھگانے کی کوشش کررہا ہے۔(شِنہوا)

 منیا نے مزید کہا کہ سروے فصلوں ، چراگاہوں ، ماحولیات اور قدرتی وسائل میں ٹڈیوں کے ذریعہ ہونے والے نقصان کا تعین کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کوویڈ -19 کی وبا ، صحرا ئی ٹڈیوں کے حملوں  اور جاری بارشوں کے نتیجوں میں موجودہ سیلاب کی وجہ سے ملکی زراعت  اور معاش پر منفی اثرات پڑے ہیں ۔

کینیا میں ایف اے او کے نمائندے ٹوبیاس تکاورشا نے کہا کہ یہ سروے کسانوں کی  ضائع ہونے والی پیداوار کی بحالی کی کوششوں میں رہنمائی کرے گا اوراسکے نتائج حکومت کی آئندہ تیاری میں  رہنمائی کریں گے۔