ٹرمپ کی ڈبلیو ایچ او کی امداد مستقل طور پر منجمد کرنے کی دھمکی

واشنگٹن(شِنہوا) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے 30دن کے اندر بنیادی بہتری لانے کا وعدہ نہ کیا تو وہ امریکی قوم کی جانب سے تنظیم کو دی جانے والی امداد مستقل طور پر بند کردیں گے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرلٹیڈروس ادھانوم گیبریئسیس کو لکھے گئے خط میں ٹرمپ نے مزید کہاکہ وہ تنظیم کی امریکی رکنیت پر نظرثانی کر سکتے ہیں، ٹرمپ نے اس خط کی ایک کاپی ٹویٹر پر بھی شائع کی۔

یہ دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پوری دنیا نوول کروناوائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے میں مصروف ہے۔ اس بیماری سے اب تک دنیابھر میں 48لاکھ افراد متاثر اور3لاکھ18ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جونز ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق صرف امریکہ میں 15 لاکھ مریض سامنے آچکے ہیں اور  90 ہزار سے زائد ہلاک ہوگئے ہیں۔دونوں اعدادوشمار  کسی بھی دوسرے ملک اور خطے سے زیادہ ہیں۔

ٹرمپ نے اپریل کے وسط میں اعلان کیا تھا کہ ان کی انتظامیہ ڈبلیو ایچ او کے فنڈز روک سکتی ہے، یہ ایک متنازعہ اقدام تھا جس کے متعلق کئی ماہرین کا کنا تھا  کہ وہ الزامات منتقل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ عوامی صحت کے بحران سے نمٹنے میں مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

پیر کے روز سابق نائب امریکی صدر  جو بائڈین نے کہا تھا کہ امر یکہ نے ردعمل میں وقت ضائع کیا گیا۔

بائڈین نے ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ اگر صدر وقت ضائع نہ کرتے اور ذمہ داری لیتے تو  یہ سوچ کر دل دکھتا ہے کہ  کتنے ڈر ، کتنے نقصان اور کتنی اذیت سے ہم بچ سکتے تھے ، لیکن ہم نے مناسب اقدامات کی بجائے حکومت کی جانب سے انکار ، تا خیر اور  توجہ ہٹا نے کے عمل دیکھے۔