اننت ناگ’آپریشن کے دوران جھڑپ میں 3 کشمیری نوجوان شہید آپریشن صرف 30منٹ تک جاری رہا’اندیشہ ہے جھڑپ فرضی تھی’نوجوانوں کو اس سے قبل ہی حراست میں رکھا گیا تھا آپریشن پیر کی صبح 3بجے شروع کیا گیا’2 عسکریت پسندوں کا تعلق لشکرطیبہ ‘ایک حزب المجاہدین کے کمانڈر مسعود تھے’ پولیس

سرینگر(آئی این پی)مقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے کھلچوہر رانی پورہ علاقے میں پیر کی صبح سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں تین عسکریت پسند شہید ہوگئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے کھلچوہر رانی پورہ علاقے کو محاصرے میں لیا اور تلاشی کارروائی شروع کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آپریشن صرف 30منٹ تک جاری رہا۔ جس کی وجہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ جھڑپ فرضی تھی۔ اور ان نوجوانوں کو اس سے قبل ہی حراست میں رکھا گیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ آپریشن پیر کی صبح تین بجے شروع کیا گیا۔ پولیس نے الزام لگایا ہے کہ ان میں سے 2 عسکریت پسندوں کا تعلق لشکرطیبہ سے تھا۔جن میں سے ایک کا نام طارق خان ہے جو اننت ناگ کے مرکزی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔جبکہ ایک حزب المجاہدین کے کمانڈر مسعود تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سال 2020میں 13آپریشنز کے دوران 113عسکریت پسند شہید کئے گئے ہیں۔ اس سے قبل جمعے کی صبح3 کشمیری نوجوان شہید جبکہ فوجی جوان اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع اننت ناگ میں 2000سے اب تک112مختلف واقعات میں 209افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ 1043 واقعات میں242عسکریت پسند 584 شہری اور 27نامعلوم افراد شہید کئے گئے۔ضلع میں اسی عرصے میں241سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں145کشمیریوں کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 ، مئی میں 16اور جون میں 49کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔جبکہ 30سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوں اور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ14سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 129افراد کو گرفتار کیا گیا۔