آئی بی اے کا سینٹر فار ایکسیلنس ان جرنلزم (سی ای جے) اور رنسٹرا کا ڈیجیٹل اسٹوری ٹیلنگ کی صلاحیت بڑھانے کیلئے معاہدے پر دستخط۔

اسلام آباد، پی کے۔03 مارچ  – سینٹر فار ایکسیلنس ان جرنلزم (سی ای جے) اور رنسٹرا ٹیکنالوجیز پرائیوٹ۔ لمیٹڈ نے طلبہ کی ڈیجیٹل اسٹوری ٹیلنگ کی مہارت کو بڑھانے کے لئے مل کر کام کرنے کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ انٹرایکٹو ورکشاپس، سیمینارز اور کورسز کے ذریعہ ڈیجیٹل مہارت کو بڑھائے گا، جس کے لئے رنسٹرا اپنے جدید ترین پلیٹ فارم کو ڈیجیٹل دستاویزی فلمی میلوں اور تھیم پر مبنی ویڈیو مقابلوں کے لئے فراہم کرے گا۔

 

اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (سی ای جے-آئی بی اے) کے سینٹر فار ایکسلنس ان جرنلزم کے ڈائریکٹر کمال صدیقی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے کہا، ” کہ رنسٹرا کے ساتھ یہ شراکت داری ہمارے طلبا کو ان کے ڈیجیٹل کہانی  کے خیالات اور تخلیقی تاثرات کو سامنے لانے کیلئے مدد فراہم کرے گا۔ ہم امید کرتے ہیں کے مقابلوں اور دستاویزی فلمی میلوں کے ذریعہ رنسٹرا کے ساتھ معاشرتی چیلنجوں اور معاشی مواقوں کے لئے نئے آئیڈیاز سامنے لائیں گے۔ سی ای جے اور اس سے وابستہ دوہزارسے زائد پیشہ ور افراد کے تخلیقی ذہنوں کے لئے یہ ایک بہت بڑا موقع ہوگا کہ وہ میڈیا کے ایک نئے دور میں داخل ہو سکیں۔

رنسٹرا کے شریک بانی اور چیئرمین ڈاکٹر عادل اختر نے اپنے پیغام میں کہا، ”اس تعاون کے ذریعے، سی ای جے۔آئی بی اے  اور رنسٹرا  مختصرانداز میں کہانی پیش کرنے کی تکنیک یعنی فلمیں، ڈرامے، میوزک ویڈیو، تھیٹر، دستاویزی فلمیں رنسٹرا اور دوسرے پلیٹ فارمز کیلئے بنا سکیں گے۔ ” انہوں نے مزید کہا، ” رنسٹرا پاکستانی کانٹینٹ اور ٹیلنٹ کیلئے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا مارکیٹوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ آئی رنسٹرا کے ابھرتے ہوئے ستاروں کو رنسٹراکے مرکزی پلیٹ فارم پر فروغ دیا گیا ہے جو ملک اورعالمی سطح پر مواقع کھولے گا۔ جدید ترین رنسٹراپلیٹ فارم مواد تخلیق کاروں کو ان کے مواد کی تخلیق، نمائش اور منیٹائز کرنے کی سہولت فراہم کرتاہے۔

اس موقع پررنسٹرا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر جہانگیر نے کہا کہ، ”یہ شراکت داری اہم ہے تاکہ نوجوان کہانی بیان کرنے والوں کو ڈیجیٹل مہارت سے آراستہ کیا جاسکے جو ان کی تخلیقی  صلاحیت اور معاشی خوشحالی کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرسکیں۔ رنسٹراکا اگلے پانچ سالوں میں دس لاکھ مواد تخلیق کاروں کو سامنے لانے کا وژن ہے، جو ملک میں ڈیڑھ سو ملین امریکی ڈالر کو عبور کرتے ہوئے ایک نئی ڈیجیٹل تخلیقی معیشت تشکیل دے سکتا ہے۔