ای سپورٹس انڈسٹری پاکستان کی معاشی ترقی میں حصہ ڈال سکتی ہے

بیجنگ (آئی این پی )   بیجنگ ای سپورٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین لیو جین  نے کہا ہے کہ ای سپورٹس  انڈسٹری پاکستان کی معاشی ترقی میں حصہ ڈال سکتی ہے ، مقامی لوگوں کو روزگار ا   ور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر سکتی  ہے، پاکستان کی  مثالی مسابقتی عمر والے گروپ میں شامل  آبادی کا 40 فیصد  ایک سونے کی کان کی طرح ہے۔گوادر پرو کے مطابق چین ، امریکہ اور جنوبی کوریا کا   گلوبل  ای   اسپورٹس کے میدانوں   پر غلبہ ہے    اور اب  الیکٹرو نک  سپورٹس  کو پاکستان کے لئے باضابطہ کھیل کے طور پر  منظوری    کا عمل جاری ہے۔ گوادر پرو کے مطابق  وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی  فواد حسین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان سائنس فیڈریشن کے مابین پاکستان  کی  ای سپورٹس کو قانونی حیثیت دینے کے بارے میں بات چیت جاری ہے ، جبکہ اس حوالے  سے  مفاہمتی  یادداشت پر پہلے ہی دستخط   ہوچکے ہیں۔ انہوں نے  مزید  کہا کہ پہلا پاکستان ای اسپورٹ ٹورنامنٹ رواں سال مارچ میں منعقد ہو گا ۔  بیجنگ ای سپورٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین لیو جین نے گوادر پرو کو بتایا کہ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان نے ای  سپورٹس  سے  ہونے والے معاشی فوائد کی نشاندہی کی   ۔ موجودہ مرحلے میں  اگر چینی اور پاکستانی تنظیمیں ایک ساتھ چیمپئن شپ کی میزبانی کرسکیں تو یہ زبر دست عمل ہو گا ۔  ہم یقینی طور پر پاکستانی ای  ایتھلیٹس کی کارکردگی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔  پاکستان میں گیمز اور ای  سپورٹس انڈسٹری  کی ترقی کو کئی دہائیوں سے  مرکزی  میڈیا  کے دھارے میں شامل کیا گیا ہے کیو نکہ  اس  بارے میں عمومی طور پر    شکوک وشبہات  پائے جاتے ہیں۔  اس  خبر  کے بعد      پاکستان میں   نیٹ  صارفین کی اکثریت  نے اس پر    مثبت رد عمل کا اظہار کیا جبکہ بعض نے  اپنے خدشات کو وزیر کے ٹویٹر کے اعلان کے جواب میں  پوسٹ کیا۔ لیو جین نے ان تبصروں پر اپنے رد عمل میں کہا کہ      مجھے حیرت نہیں ہے کہ اس طرح کی تجویز سے عوامی بحث و مباحثہ ہوا۔ کئی سال قبل ، چینی  عوام کی اکثریت بھی  گیمز اور ای  سپورٹس  کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تھی۔ میرے خیال میں لوگوں کوہر دوسرے کھیل کی طرح  یہ  بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صرف چند ہی افراد ایسے ہیں جو اسے ‘بنانے’ اور عالمی معیار کے ایتھلیٹ    بن سکتے ہیں۔ اس صنعت میں کامیاب ہونے کے لئے عزم ، ارتکاز   اور  حقیقی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔