وزیراعظم کی گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو معینہ مدت میں پورا کرنے کی ہدایت

گوادر(آئی این پی)وزیراعظم شہباز شریف نے گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو معینہ مدت میں پورا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی اور بجلی کی فراہمی کے منصوبوں میں کسی قسم کا مزید تعطل قبول نہیں،گوادر میں 12لاکھ گیلن یومیہ کا ڈی سیلینیشن پلانٹ جلد مکمل کیا جائے،پانی کی گھر گھر فراہمی کیلئے پائپ لائنز کے نظام کو فی الفور بہتر کیا جائے،منصوبوں میں تعطل اور مجرمانہ غفلت برتنے والوں کی نشاندہی کیلئے فورا انکوائری کروائی جائے،62میگاواٹ کے سولر منصوبے کے حوالے سے تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کی جائے، وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار ایک روزہ دارہ گوادر میں اعلی سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ، اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی گوادر میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت،اجلاس میں وفاقی وزرا، وزراِ مملکت، معاونینِ خصوصی، وزیرِ اعلی بلوچستان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی،اجلاس میں وزیراعظم کو ڈی سیلینیشن پلانٹ پر پیش رفت کے بارے آگاہ کیا گیا،اسکے علاوہ پانی کی طلب، سپلائی، ڈیمز کی موجودہ صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گوادر میں پانی کی موجودہ طلب 3.4ملین گیلنز پر ڈے اور سپلائی 9ملین گیلن پر ڈے ہے جبکہ گوادر پورٹ اتھارٹی پر 1.2ملین گیلن پر ڈے کے پلانٹ کی بعد اسکی مجموعی استعداد 1.5ملین گیلین پر ڈے ہو جائے گی،اسکے ساتھ ساتھ 9چھوٹے موبائل پلانٹ بھی لگائے جائیں گے جسکے بعد پانی کی بلاتعطل فراہمی میں معاونت ملے گی،اجلاس میں شریک شرکاء کو بتایا گیا کہ ایران سے 100میگاواٹ کی فراہمی کے بعد گوادر میں مجموعی طور پر بجلی کی فراہمی 170میگاواٹ تک پہنچ جائے گی جبکہ اس وقت بجلی کی طلب صرف 70میگاواٹ ہے،سولر پینلز کی فراہمی اور آف گرڈ منصوبوں سے مقامی سطح پر بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی ہوجائے گی،ایران سے مکران کی ٹرایسمشن لائن 6ماہ جبکہ نیشنل گرڈ سے مزید 100میگاواٹ کی فراہمی کیلئے ٹرانسمیشن لائن دسمبر 2022 تک مکمل کر لی جائے گی،اجلاس کو نیو گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر تعمیراتی کام کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ گوادر میں سولر منصوبے اور مقامی آبادی کو سولر پینلز فراہم کرنے کے منصوبے کیلئے سولر پینلز کی پاکستان میں تیاری یقینی بنائی جائے،گوادر میں بجلی کے بیس لوڈ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ آئندہ سالوں میں بجلی کی طلب میں اضافے اور سپلائی کیلئے جامع منصوبہ بنا کر پیش کریں،گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تکمیل جولائی 2023تک یقینی بنائی جائے،تربت اور کوئٹہ کے ہوائی اڈوں پر بین الاقوامی پروازوں کو بحال کیا جائے اور کرایوں میں کمی لائی جائے،پورے بلوچستان میں آف گرڈ بجلی کے منصوبوں کیلئے حکمتِ عملی مرتب کی جائے،گوادر میں انٹرنیٹ کی سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں،گوادر بندرگاہ پر ڈریجنگ کو جلد شروع کیا جائے اور بریک واٹر کے حوالے سے عملی اقدامات کئے جائیں،گوادر اسپتال کی تکمیل دسمبر کی بجائے ستمبر میں یقینی بنائی جائے،گوادر کے تمام پسماندہ 16523گھرانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کیا جائے،ایک ہفتے کے بعد ان تمام اقدامات پر اجلاس میں پیش رفت پر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے