عوام کے لیے مہنگائی کا طوفان لانے سے بہتر ہے حکومت چھوڑ دی جائے، مریم نواز

سرگودھا (آئی این پی)پاکستان مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عوام کے لیے مہنگائی کا طوفان لانے سے بہتر ہے حکومت چھوڑ دی جائے، عمران خان جیسے بے حس شخص کو کیا پتا کہ درد دل رکھنے والے ایک حکمران کے لیے عوام کو مشکل میں ڈالنے والے فیصلے کرنا کتنا مشکل کام ہے،شہباز شریف کی 4 ہفتوں کی حکومت میں نالائق آدمی 40 تقریریں کرچکا ہے لیکن ایک منٹ بھی اپنی حکومت کی کارکردگی اور اپنے کارنامے بتا نہیں سکتا،عمران خان ازل کا جھوٹا شخص ہے۔

جمعرات کو سرگودھا میں پارٹی کے پاور شو سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بد قسمتی تھی کہ ایک نالائق، نااہل، اناڑی، کھنڈرے کو پاکستان کے 22 کروڑ عوام پر پر مسلط کیا گیا، اس نے 4 سال میں پاکستان کی معیشت تباہ کردی۔ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے سال میں ملک کو قرضوں کو بوجھ تلے دبانے والا، پاکستان کی معیشت کو وینٹی لیٹر پر لے جانا والا کہتا ہے کہ شہباز شریف نے 4 ہفتوں میں کیا کیا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی 4 ہفتوں کی حکومت میں نالائق آدمی 40 تقریریں کرچکا ہے لیکن ایک منٹ بھی اپنی حکومت کی کارکردگی اور اپنے کارنامے بتا نہیں سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ازل کا جھوٹا شخص ہے، سب سے پہلے 35 پنکچر کا جھوٹ بولا، کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، اس کے بعد غیر ملکی سازش کا ڈرامہ کیا اس کا بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکا، پھر آخر میں اپنے قتل کا ڈرامہ رچایا، کوئی ثبوت نہیں دے سکا، کہتا ہے کہ ثبوت الماری میں بند کرکے رکھ دیے ہیں، بچوں کے پاس بھیج دیے ہیں، اس نے جھوٹے ڈرامے کیے مگر کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے لیکن جھوٹے خان تمہارے خلاف عوام کے پاس بڑے بڑے ثبوت ہیں۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان آج حکومت پر تنقید کرتا ہے کہ یہ کوئی فیصلہ نہیں کرپا رہے، عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمہیں جیسے بے حس شخص کو کیا پتا کہ درد دل رکھنے والے ایک حکمران کے لیے عوام کو مشکل میں ڈالنے والے فیصلے کرنا کتنا مشکل کام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور شہباز شریف تمہاری طرح بے حس نہیں کہ جب تم وزارت عظمی کی کرسی پر بیٹھے تھے، تہمیں کہا گیا کہ آلو، پیاز اور ٹماٹر کے ریٹ بڑھ گئے ہیں تو تم نے کہا میں ان اشیا کی ریٹ ٹھیک کرنے نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف آلو، پیاز کے ریٹ ٹھیک کرنے آیا ہے۔ نواز شریف کے لیے کیسی چیز کی قیمت مین ایک روپیہ بھی بڑھانا بہت بڑی بات ہے، نوازشریف، شہباز شریف کہتا ہے کہ جب مجھے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ بھی بڑھانا پڑھتا ہیتو میرے دل پر قیامت گزرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف ، شہباز شریف کے لیے کیا مشکل کیا تھا کہ تمہاری طرح کرسی سے چپکے رہتے اور مہنگائی کرتے رہتے، مگر نواز شریف اس مٹی کا بیٹا ہے، اپنی حکوومت چھوڑ دے گا مگر اپنے لوگوں پر بوجھ نہیں ڈالے گا۔ نواز شریف بھی عمران خان کی طرح سر جھکا کر آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان لیتا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھاں گا، مہنگائی کروں گا، اسٹیٹ بینک کو بھی گروی رکھ دوں گا تو کیا یہ کوئی مشکل کام تھا لیکن نواز شریف کہتا ہیکہ حکومت چھوڑدوں گا، اپنے عوام پر بوجھ نہیں ڈالوں گا۔

مریم نواز کا جلسے کے شرکا سے سوال پوچھتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت میں رہنا چاہیے یا چھوڑ دینی چاہیے، کیا عمران خان کی ہوئی تباہی اور بربادی کا ٹوکرا (ن) لیگ کو پانے سر رکھنے کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا میرے خیال میں اس وقت ایسی حکومت کو چھوڑ دینا چاہیے، اس حکومت کو چھوڑنا بہتر ہے جس سے عوام پر مہنگائی کا بوجھ پڑے۔

انہوں نے جلسے میں موجود لوگوں سے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ اگر نواز شریف اس وقت عوام کے لیے حکومت چھوڑتا ہے تو کیا آپ اس کو آئندہ 5 سال کے لیے 2 تہائی اکثریت والی حکومت دو گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کے لیے مہنگائی کا طوفان لانے سے بہتر ہے کہ حکومت کو چھوڑ دیا جائے، میں کہتی ہوں کہ حکومت کو چھوڑ دو، عوام کے میدان میں آجا اور مقابلہ کرو۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس وقت یہ حکومت اس لیے قبول کی تھی کیونکہ عمران خان اپنے شریک جرم کے ساتھ مل کر آئندہ الیکشن پر بھی ڈاکا ڈالنے کی تیاری کرچکا تھا، اگلا الیکشن بھی دھاندلی کے ذریعے اچک کر لے جانے کی تیاری کر چکا تھا، سرگودھا والوں، ہم نے عمران خان کی حکومت کو گرا کر ہم نے اس کے 12 سال تک ملک پر حکمرانی کرنیکے منصوبے کو ناکام کردیا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اب تم بال نوچو، دانت پیسو، الٹے لٹک جا مگر تمہارا کھیل ختم شد، جس شخص نے ساری زندگی کما کر نہیں کھایا اس کو آزادی کا بھاشن دینا مناسب نہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ کہا جاتا تھا نوازشریف کی سیاست ختم ہوگئی، آج نواز شریف کو کہا جا رہا ہیکہ واپس آ، نواز شریف دور میں معیشت نے ترقی کی، شہباز شریف کرسی چھوڑ دے گا لیکن عوام کو مشکل میں نہیں ڈالیگا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنی ناپاک زبان سے ریاست مدینہ کا نام لینے والے کے اپنے کتے ایک دن میں اتنا گوشت کھاتے ہیں جتنا بنی گالا کے اطراف کے لوگ مہینے میں نہیں کھاتے، کہتا ہے کہ حمزہ شہباز کی وجہ سے مرغی کا گوشت مہنگا ہے، میں کہتی ہوں کہ مرغی اس وقت مہنگی ہوئی جب بنی گالا کی چھت پر منوں زندہ مرغی کا گوشت جلایا جاتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں شہر شہر دہشت گردی ہوتی تھی، گھنٹوں، گھنٹوں لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، نواز شریف نے ضرب عضب کیا، آپریشن رد الفساد کیا، سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا، پھر نواز شریف، شہباز شریف نے ملک سے اندھیروں کو مٹایا، نواز شریف ملک کی بجھتی ہوئی روشنیاں واپس لایا۔

مریم نواز نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں پاکستان نامی گھر کو اپنے پاں پر کھڑا کیا، ترقی کی راہ پر گامزن کیا اور اس نالائق شخص نے ساڑھے 3 سال میں اس کو برباد کردیا تو کیا وہ برباد شدہ گھر 4 ہفتوں مین ٹھیک ہوسکتا ہے۔

مریم نواز کا سابق وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر آج معیشت وینٹی لیٹر پر تو اس جرم کا سب سے بڑا ثبوت عمران خان ہے، اگر آج ملک قرضوں کی دلدل میں پھنس گیا ہے تو اس جرم کا ثبوت عمران خان ہے، اگر آج ملک کے لوگ 2 وقت کی روٹی، دوائی اور بجلی سے محروم ہیں تو جرم کا ثبوت عمران خان ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز عمران خان نے جلسے میں مجھے گالی دی مگر عمران خان نے مجھینہیں پننجاب کی ہر بیٹی کو گالی دی ہے، عمران خان تم نے پاکستان کی ہر بیٹی کو گالی دی ہے، میں اس کو منہ توڑ جواب دے سکتی ہوں مگر عمران خان ڈرو اس وقت سے جب پاکستان کی ماں، بیٹیوں کے ہاتھ تمہارے گریبان پر ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک فتنہ ہے، جس جس نے اس کو دودھ پلایا ہے، اس نے اس کو ڈسا ہے، پاکستان کی آستین میں چھپے فتنے کا عمران خان ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ عدلیہ اگر عمران خان کے حق میں فیصلہ نہ دے تو کہتا ہے کہ عدلیہ بکی ہوئی ہے، کہتا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ ساتھ نہ دے تو وہ جانور ہے، کہتا ہے کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کھولے تو وہ جانبدار ہے، کہتا ہے کہ الیکشن میں جیتوں گا ورنہ دھاندلی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہنتا ہے کہ اتحادی جماعتیں اپوزیشن کے ساتھ چلی جائیں تو وہ غدار، میڈیا جب تک میرے جھوٹوں کو سپورٹ کرتا رہے تو ٹھیک ورنہ میڈیا غیر ملکی ایجنٹ ہے، جب تک میں اقتدار کی کرسی پر بیٹھا رہوں تو ٹھیک اگر میں اقتدار سے نکال دیا جاں تو پاکستان پر ایٹم بم ماردو۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آئین توڑا ، سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا، رات کو 12 بجے عدالتیں کھلیں، اس دن سے آج تک سپریم کورٹ کو گالیاں دیتا ہے، ججز کو گالیان دیتا ہے، ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلاتا ہے، آج تک گالیاں دے رہا تھا اور اب جب سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لے لیا ہے تو شادیانے بجا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نے شہباز شریف کے خلاف ازخود نوٹس لیا تو اپنی معزز عدلیہ سے کہتی ہوں آپ کی بڑی مہربانی ایک سوموٹو ایکشن فارن فنڈنگ کیس پر بھی ہونا چاہیے، ایک سوموٹو نوٹس ایف آئی اے کے سابق سربراہ بشیر میمن کے الزامات پر بھی ہونا چاہیے، ایک سوموٹو نوٹس شہزاد اکبر کے خلاف بھی ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے عرض کرنا چاہتی ہوں کہ ایک ذہنی توازن سے محروم پاگل شخص کے لیے انصاف کے ترازو کو ایک جانب جھکنے نہ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان جب کہتا ہے کہ میں نے ان سازشیوں کے چہرے پہچان لیے ہیں تو وہ نواز شریف کا نام نہیں لیتا، وہ یہ بات مجھے نہیں کہتا، وہ یہ بات اداروں کو کہتا ہے کہ تمہارے چہرے میں نے پہچان لیے ہیں، میں اب تمہیں چھوڑوں گا نہیں، یہ ہی حرکت عمران خان اپنے جلسوں میں افواج پاکستان کے ساتھ بھی کرتا ہے، اپنے جلسوں میں عمران خان افواج پاکستان کو گالی دیتا ہے، سوشل میڈیا پر افواج کو گالی دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی کا بیٹا اواب علوی پاکستان کی فوج کو کھلے عام گالی دیتا ہے، جب یہ اپنے لوگوں کو کہتا ہیکہ فوج کی فیملیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ میرے جلسوں میں آ، تو لوگوں کو یہ کہتا ہے کہ میں تمہارے سپہ سالار کو گالی دوں گا، میں ان کو میر جعفر اور میر صادق کہوں گا اور وہ سب سننے کے لیے میرے جلسے میں آنا۔

مریم نواز نے کہا کہ یہ فتنہ اس میڈیا کو بھی گالیاں دیتا ہے جس میڈیا نے اس کو عمران خان بنایا، جس نے اس کے خالی کرسیوں کے جلسے دکھائے، دن رات اس کے جلسوں کی کوریج کی، ایک میڈیا چینل اے آر وائی کو چھوڑ کر جو ریاستی اداروں پر حملے کر رہا ہے، یہ دونوں ملے ہوئے ہیں، عمران خان نے سلمان اقبال کو 40 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا، اس کا 10 سے 12 ارب روپے کا ٹیکس معاف کیا، یہ دونوں چوری میں برابر کے حصے دار ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک فتنے کا نام ہے، اس فتنے کو روکنا چاہیے، اس فتنے کو ختم کرنا چاہیے کیونکہ جب تک عمران خان جیسا فتنہ موجود ہے، پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، اس فتنے کا دوسرا نام تباہی ہے، ہر شہری، ماں، بیٹی بزرگ، عدلیہ، افواج پاکستان اور میڈیا کا فرض ہے کہ اس فتنے کو روکے جس کا نام عمران خان ہے۔