پاکستان نے رواں مالی سال میں گوشت کی برآمدات کا ہدف 52لاکھ19ہزار ٹن مقررکردیا، ویلتھ پاک رپورٹ

اسلام آباد (آئی این پی)پاکستان نے دنیا بھر میں حلال گوشت کی مارکیٹ میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے رواں مالی سال میں اپنی گوشت کی برآمدات کا52لاکھ19ہزار ٹن کا ہدف مقرر کردیا ۔ ملک میں معاشی صورتحال سے متعلق تجزیاتی رپورٹس دینے والے معروف ادارے’’ ویلتھ پاک ‘‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کی گوشت اورگوشت کی مصنوعات کی برآمد ات کی مالیت 7کروڑ83لاکھ ڈالر رہی۔گزشتہ مالی سال کے دوران33کروڑ34 لاکھ ڈالر مالیت کا گوشت اور اس کی مصنوعات برآمد کی گئی تھیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں10فیصد زیادہ تھیں۔49لاکھ ٹن کا موجودہ ہدف سالانہ4.9 فیصد کے اوسط اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیا گیا ہے۔پاکستان کا موجودہ مالی سال میں گوشت کی پیداوار کا ہدف تقریباً52کروڑ19 لاکھ ٹن ہے۔توقع ہے کہ انڈونیشیا اور اردن کی حلال مارکیٹ تک رسائی کے بعد رواں مالی سال کے اختتام پر50کروڑ ڈالر کی گوشت اور گوشت کی مصنوعات برآمد کی جائیں گی۔پاک چائنہ مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ترجمان نے ویلتھ پی کے کو بتایا کہ انہوں نے پاکستانی حکومت سے چین کو حلال گوشت کی برآمد میں اضافہ کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے برآمدات کے فروغ کے لیے ٹھوس حکمت عملی وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ محدود تعداد میں ہنر مند لیبر اور جدید تکنیک کی کمی کی وجہ سے پاکستان اس صنعت میں پیچھے رہ گیا ہے۔فروری 2020 میں ملائیشیا کے حکام نے گوشت اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی برآمد کے لیے دو پاکستانی اداروں جبکہ اکتوبر 2021 میں اردن نے تین پاکستانی میٹ پروسیسنگ کمپنیوں کو بھی منظوری دی۔رپورٹس کے مطابق پاکستانی برآمد کنندگان اردن کی گوشت کی مارکیٹ میں 25 فیصد حصہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس سے ملک کو برآمدی آمدنی میں تقریباً 100 ملین ڈالر کا اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔