حکومت بیساکھیوں پر چل رہی ہے’ شاہد خاقان

اسلام آباد ( آئی این پی ) مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت بیساکھیوں پر چل رہی ہے ، جس روز ان کے سر سے ہاتھ اٹھ گیا یہ ایک روز بھی نہیں چلے گی’تحریک عدم اعتماد وہاں لائی جاتی ہیں جہاں حکومتیں آئین و قانون کے مطابق چل رہی ہوں”آٹا چینی سکینڈل آئے ‘ براڈ شیٹ کی باتیں ہوئیں مگر عدالتیں خاموش رہیں ‘ اقامے کی فیس نہ لینے پر حکومتیں توڑنے والی عدالتیں آج خاموش ہیں ‘ ضرورت ہے کہ عدلیہ عوام کا اعتماد بحال کرے ‘ جہاں عدلیہ سے اعتماد اٹھ جائے وہاں نظام نہیں چلتا’حکومت نے چیئرمین نیب کی تعیناتی کا آرڈیننس جاری کر دیا ‘ صدر صاحب دندان سازی میں مصروف تھے’فرصت ملی ہے تو انہوں نے خط لکھ دیا ہے اپوزیشن جواب دیدی گی احتساب عدالت میں پیشی کے بعد گفتگو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد وہاں لائی جاتی ہیں جہاں حکومتیں آئین و قانون کے مطابق چل رہی ہوں ، یہاں تو حکومت بیساکھیوں پر چل رہی ہے ، جس روز ان کے سر سے ہاتھ اٹھ گیا یہ ایک روز بھی نہیں چلیں گی۔ صحافی نے سوال کیا کہ سابق سپیکر ایاز صادق لندن میں نواز شریف سے ملاقات کر رہے ہیں ، کیا کچھ بہت بڑا ہونے والا ہے ؟ ، جس پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایاز صادق لندن میں ہیں ؟ مجھے اس بات کا علم نہیں ہے۔ گرین لائن بس کے افتتاح سے متعلق انہوں نے کہا کہ جو کام نہ کرے وہ دوسروں کا کریڈٹ لیتا ہے ، اس حکومت کے 18 وزیر مشیر ہیں جن کا کام صرف پریس کانفرنس کرنا ہے ، وہ اپنی مراعات بتا دیں ، وہ سب 18 لوگ اکٹھے ہو جائیں اور اس حکومت کا ایک کام بتا دیں جو انہوں نے شروع کیا ہو۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہاں آٹا چینی سکینڈل آئے ، براڈ شیٹ کی باتیں ہوئیں مگر عدالتیں خاموش رہیں ، اقامے کی فیس نہ لینے پر حکومتیں توڑنے والی عدالتیں آج خاموش ہیں ، ضرورت ہے کہ عدلیہ عوام کا اعتماد بحال کرے ، جہاں عدلیہ سے اعتماد اٹھ جائے وہاں نظام نہیں چلتا۔فواد چودھری کا الزام کہ سب سے زیادہ پولیس مقابلے شہباز شریف کے دور میں ہوئے پر رد عمل دیتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پولیس مقابلے ہوئے ہیں تو عدالتیں آپ کے پاس ہیں ، بسم اللہ کریں ، سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی سے متعلق انہوں نے کہا کہ اب سٹیٹ بینک آزاد ہے ، اس کا کوئی کچھ نہیں کر سکتا ، مانیٹری پالیسی کی کیا بات کروں سٹاک مارکیٹ ہی ڈوب گئی ہے ، آج ڈالر 75 فیصد مہنگا ہو چکا ہے ،کپٹیلائزیشن سٹاک مارکیٹ میں آدھی رہ گئی ہے۔چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے چیئرمین نیب کی تعیناتی کا آرڈیننس جاری کر دیا ہے ، صدر صاحب دندان سازی میں مصروف تھے ، اب انہیں فرصت ملی ہے تو انہوں نے خط لکھ دیا ہے ، اپوزیشن جواب دے دی گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی صورتحال سب کے سامنے ہے بجلی کی قیمت میں ساڑھے چار روپے اضافہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر ہر روز ایک نیا تماشا لگتا ہے وزراء اپنی حکومت کا کوئی ایک کارنامہ بتا دیں ان کا کام صرف گالیاں دینا ہیں مہنگائی پاکستان میں ہے اور مثالیں امریکہ اور دیگر ممالک کی دی جاتی ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا عوام پریشان اور حکمران خاموش ہیں۔ ملک کی پرواہ نہ کرنے والوں کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکردو روڈ کا افتتاح ہونے جارہا ہے جو کہ (ن) لیگ کا منصوبہ ہے موجودہ حکومت تین سال میں ملک کو مہنگائی غربت اور بے روزگاری کے سمندر میں ڈبو چکی ہے۔ حکومت عوام سے انتقام لے رہی ہے عوام ناقص کارکردگی پر مایوس ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین سال میں موجودہ حکومت سے کوئی کام نہیں ہوسکا حکومت نے آکر کیا یہ تبدیلی لانا تھی۔ گیس کی بندش سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔ ملک میں گھی ساڑھے چار سو روپے مل رہا ہے کیا اسے تبدیلی کہا جائے پاکستان سے مچھلی کی برآمد کم ہوگئی کیا اسے تبدیلی کہتے ہیں تین سال میں بیس ہزار ارب روپے کا قرض ملک پر چڑھا دیا گیا ہے یہ ہے تبدیلی جن کا اپنا کام نہیں ہوتا وہ دوسرے کے کاموں کا کریڈٹ لیتا ہے کیا وہ وزراء مشیروں اور ترجمانوں کا کام صرف پریس کانفرنس کرنا ہے۔ جن لوگوں نے ملک میں سرمایہ کاری کی حالات کی وجہ سے ان کی سرمایہ کاری ڈوب گئی۔ حکومت کا ہر عمل بدنیتی پر مبنی ہے۔ حکومت بیساکھیوں پر جسے ہٹانے کی ضرورت ہے۔ (ن غ)