دوسرے ملکوں پر حملہ کرنے والے امریکہ کو جمہوریت کے بارے میں بات کرنے کا حق نہیں، رپورٹ

بیجنگ (آئی این پی)امریکہ میں چین اور روس کے سفیروں نے حال ہی میں مشترکہ طور پر امریکی ’’نیشنل انٹرسٹ‘‘ میگزین میں ایک مضمون لکھا، جس میں امریکہ کی طرف سے بلائے جانے والے نام نہاد ’’جمہوریت سربراہی اجلاس‘‘ کے لئے سخت مخالفت کا اظہار کیا ہے۔
’’جمہوریت‘‘ کو گیت کے طور پر گانا،لیکن ہر جگہ جمہوریت مخالف سرگرمیاں کرنا،یہ واقعتاً امریکہ کی ایک بڑی ستم ظریفی ہے! دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے، امریکہ ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر گروہی سیاست کرنے والا سب سے زیادہ پرجوش ملک رہا ہے۔ لیکن دوسرے ممالک پر حملہ کرنے اور ’’جمہوریت‘‘ پھیلانے کے نام پر بے گناہ لوگوں کو مارنے میں سب سے آگے امریکہ ہی ہے۔ ’’امریکی جمہوریت‘‘ کے پردے کے پیچھے بہت سے زخم موجود ہیں۔
امریکہ دوسرے ممالک میں مختلف طریقوں سے مداخلت کرتا چلا آ رہا ہے جیسے پراکسی جنگوں کی حمایت، داخلی بغاوت، قتل و غارت، ہتھیار اور گولہ بارود فراہم کرنا اور حکومت مخالف قوتوں کو تربیت دینا وغیرہ، جس سے متعلقہ ممالک کے سماجی استحکام اور عوامی تحفظ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
جمہوریت ایک مشترکہ قدر ہے جس کا تعاقب تمام ممالک کرتے ہیں، نہ کہ کوئی ایسا سیاسی آلہ جسے امریکہ من مانے طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ دوسرے ممالک کے خلاف جارحیت کی وجہ سے ہونے والے لاتعداد جرائم، اور تقسیم کو بھڑکانے سے علاقائی سلامتی کی تباہی کا سامنا کرتے ہوئے، واشنگٹن کو جمہوریت کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ جس نام نہاد ’’جمہوریت سربراہی اجلاس‘‘ کا انعقاد کرنے جا رہا ہے وہ صرف تازہ ترین کامیڈی ہے۔ اس کی ’’جعلی جمہوریت اور حقیقی بالادستی‘‘ کی چالیں یقیناً تاریخ کے کچرے کے ڈھیر میں پھینک دی جائیں گی