پاکستان 65 ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے انسانی حقوق کی آڑ میں چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت 

جنیوا (آئی این پی) چوبیس ستمبر کو جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 48 ویں اجلاس میں پاکستان نے 65 ممالک کی جانب سے مشترکہ تقریر کی ، جس میں اس بات پر زور دیا کہ ہانگ کانگ ، سنکیانگ اور تبت کے معاملات چین کے اندرونی معاملات ہیں اور اس میں بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیے . مشترکہ تقریر میں شریک ممالک وینزویلا اور بیلاروس کے سفیروں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ملکوں کی خودمختاری ، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام اور خوداختیار ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصول ہیں .

جنیوا میں اقوام متحدہ میں وینزویلا کے مستقل نمائندے نے کہا کہ  امریکہ ، کینیڈا ، برطانیہ اور یورپی یونین، انسانی حقوق کو  سنکیانگ کے عوام اور اداروں کے خلاف غیر قانونی یکطرفہ جبری  اقدامات عائد کرنے کے بہانے اور  چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔وینزویلا اس کی شدید مخالفت  کرتا ہے اور ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں "ایک ملک ، دو نظام” کے نفاذ کی حمایت کرتا ہے۔ ہانگ کانگ قومی سلامتی قانون کے نافذ ہونے کے بعد ، ہانگ کانگ کے باشندوں کے انسانی حقوق اور آزادی کو مزید تحفظ دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ہانگ کانگ ، سنکیانگ اور تبت کے متعلقہ مسائل چین کے اندرونی معاملات ہیں ، اور بیرونی طاقتوں کو ان میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ وینزویلا انسانی حقوق کی سیاست اور دوہرے معیارات کو اپنانے نیز سیاسی مقاصد و امتیازی سلوک کے تحت  چین کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی و  انسانی حقوق کے بہانے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔

جینیوا میں اقوام متحدہ میں بیلاروس کے مستقل نمائندے  نے کہا کہ مشترکہ تقریر میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں کی پاسداری اور تمام ممالک کی اپنے قومی حالات کے مطابق آزادانہ طور پر انسانی حقوق کی ترقی کی راہ کا انتخاب کرنے کا احترام کرنے کی بات کی گئی ہے ۔جون 2020 میں چین کی جانب سے ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون کے نفاذ کے بعد ، ہانگ کانگ کی صورتحال میں زبردست تبدیلی آئی ہے۔اس  خطے میں نظم و نسق  بحال کر دیا گیا ہے  اور معاشرتی خوشحالی کو برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں نے چینی حکومت کے خطےمیں  امن قائم کرنے کے اقدامات کو درست قرار دیتے ہوئے ان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ۔

علاوہ ازیں،خلیج تعاون  کونسل کے چھ رکن ممالک نے چین کے موقف کی حمایت کے لیے ایک اجتماعی خط بھی پیش کیا ۔ بیس سے زائد ممالک نے اپنی اپنی تقاریر میں اور تقریباً ایک سو ممالک نےدیگر مختلف طریقوں سے چین کی حمایت کی۔