چینی اقلیتی قومیتوں کے نمائندوں کی طرف سے  اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی 48ویں کانفرنس میں سنکیانگ میں غربت کے خاتمے کے حوالے سے حاصل کردہ کامیابیوں اور روزگار کی ضمانت سے متعلق صورتحال پر روشنی ڈالی گئی

اقوام متحدہ (آئی این پی) بائیس تاریخ کو چینی اقلیتی قومیتی نمائندوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی 48ویں کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے اپنے تجربات کے ساتھ چین کے سنکیانگ میں غربت کے خاتمے کے حوالے سے حاصل کردہ کامیابیوں اور روزگار کی ضمانت سے متعلق صورتحال پر روشنی ڈالی۔

سنکیانگ میں تاجک عوام کے نمائندے کرمان نے کہا کہ ان کے آبائی وطن میں سخت قدرتی ماحول اور پسماندہ بنیادی تنصیبات ہیں۔ مقامی حکومت نے مقامی لوگوں کی دوسرے علاقے میں منتقلی کی پالیسی اختیار کی۔ جس سے اب لوگ کھلے کھلے  گھروں میں رہ سکتے ہیں اور پینے کے پانی ، قدرتی گیس ، انٹرنیٹ ، مفت طبی سہولیات اور تعلیم سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

اکسو پریفیکچر میں ویغور لوگوں کے نمائندے ترکسون نے بتایا کہ انہیں کیمپس بھرتی کے ذریعے اچھی نوکری ملی۔ کمپنی نے ان کے ساتھ لیبر کنٹریکٹ پر دستخط کیے اور سیفٹی اور تکنیکی  حوالے سے خصوصی تربیت بھی فراہم کی۔یہ کمپنی ان کے آرام کے وقت اور مذہبی عقیدے کی آزادی کی مکمل ضمانت دیتی ہے اور رہائش کے اچھے حالات فراہم کرتی ہے۔ بیرون ملک کچھ لوگ سنکیانگ میں نسلی اقلیتوں سے  ’’ جبری مشقت ‘‘ لنیےکا بہتان لگاتے ہیں ، جو کہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ تارکین وطن مزدوروں کا مقصد زیادہ پیسہ کمانا اور بہتر زندگی گزارنا ہے۔ نام نہاد ’’ جبری مشقت ‘‘ بے بنیاد ہے۔