عرب میں 2020 میں قوانین کی تبدیلی کے بعد پھانسی کی سزا کی شرح میں کمی

سعودی سعودی عرب میں گزشتہ سال 2020 میں قوانین کی تبدیلی کے بعد مختلف جرائم میں پھانسی کی سزا پانے کی شرح میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے ۔ امریکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے سعودی حکومت کے انسانی حقوق کمیشن کی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2020میں 27 افراد کو پھانسی دی گئی جب کہ 2019 میں 184 افراد کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی اس لحاظ سے قوانین میں تبدیلی کے باعث پھانسی کی سزا پانے کی شرح میں صرف ایک سال کے دوران 85 فیصد کمی ہوئی ہے ۔

رپورٹ کے مطابق منشیات سے متعلقہ جرائم کے لئے سزائے موت موخر کرنے والے قانون کی وجہ سے پھانسی کی شرح میں کمی ہوئی، مجوزہ قانون 2020 کے آخر میں نافذ کیا گیا تھا، ایک شاہی فرمان کے تحت سعودی عرب نے پچھلے سال نابالغ افراد کو جرائم کے لئے سزائے موت کے خاتمے اور ججوں کو جرمانے یا ملزمان کو سر عام کوڑے مارنے کے متنازعہ عمل کو ختم کرنے کا بھی حکم دیا تھا، 34 سالہ سعودی ولی عہد شاہ سلمان نے ان قوانین میں تبدیلی کا شاہی فرمان جاری کیا تھا۔