چین روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ حل کرنے کیلئے میدان میں آگیا

نے پائی تا (آئی این پی ) چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے میانمر حکومت سے کہا ہے کہ وہ راکھان سٹیٹ (روہنگیا مسلمانوں ) کا مسئلہ بنگلہ دیش کے ساتھ دوستانہ بات چیت کے ذریعے حل کرے ،اسے پینگ لانگ جذبے اور طویل المیعاد امن کا احساس کرتے ہوئے باہمی دوستانہ مشاورت کے ذریعے جلد از جلد حل کیا جائے اور عالمی برادری اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ضروری حالات اور ماحول پیدا کرے ، یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اسے بنگلہ دیش کے ساتھ دوستانہ بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے تا کہ اس ریاست میں امن و استحکام پیدا ہو ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں میانمر کی سٹیٹ کونسلر اور وزیر خارجہ آنگ سان سوکائی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے راکھان سٹیٹ کے مسئلے کا تین مرحلوں میں حل تجویز کیا ۔چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ایک ایسا پیچیدہ مسئلہ ہے جس کا تعلق تاریخ ، نسل اور مذہب سے ہے جو دونوں فریقوں کی طرف سے فوری طویل المدت حل چاہتا ہے،پہلے مرحلے میں فریقین کے درمیان فائربندی ہونی چاہئے تا کہ بے گھر ہونیوالے مقامی افراد اپنے گھروں کو واپس آ سکیں ،دوسرے مرحلے میں بین الاقوامی برادری میانمر اور بنگلہ دیش کی حوصلہ افزائی کرے تا کہ دونوں ممالک اس مسئلے کے حل کیلئے آپس میں رابطہ کر سکیں اور بنگلہ دیش میں موجود ایک ابتدائی معاہدے کے بعد اپنے گھروں کو واپس آ سکیں ، تیسرے مرحلے میں ایک طویل المدت منصوبے کے تحت علاقے سے غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جائیں تا کہ بے چینی اور تصادم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور اس کے لئے بین الاقوامی برادری مالی تعاون کرے ۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے میانمر کی سٹیٹ کونسلر نے کہا کہ چین میانمر کی اقدار کو بخوبی سمجھتا ہے اور اس نے راکھا ن سٹیٹ کے مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ، اس لئے و ہ چین کے تجویز کردہ تین مرحلوں کے حل سے اتفاق کرتی ہے۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ چین اس مسئلے کے حل کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرے گا ۔