امریکہ کے بعد ایران کا جوہری معاہدے سے دستبردار ہونا افسوسناک نتائج کا حامل ہو گا، روس

ماسکو ( آئی این پی/ شِنہوا) امریکہ کی جانب سے ایران جوہری معاہدے سے نکل جانے کے رد عمل میں ایران کے 2015میں طے پانے والے معاہدے سے دستبردار ہونے سے عالمی برادری کی جانب سے ایران جوہری معاملہ کو حل کرنے کے حوالے سے دیرینہ کوششوں کونقصان پہنچے گا اور اس کے افسوسناک نتائج برآمد ہونگے، روسی وزارت خار جہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کا ممکنہ طور پر ختم ہو جاناامریکہ کی جانب سے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر دستبردار ہونے کی صورت میں ہوگااور یورپی شراکت دار ایران کیلئے تجویز کردہ شرائط کی ضمانت دینے میں ناکام ہونگے ،بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مذاکراتی عمل کیلئے مشترکہ پلان آف ایکشن تشکیل دینے میں 4 سال کا وقت لگا ،روس نے ہمیشہ سے تمام شراکت داروں پر زور دیا ہے کہ اس معاہدے کی عمل داری کیلئے درپیش چیلنجز پر قابو پایا جائے، امریکہ کی ایران کے ساتھ تصادم کی پالیسی تباہ کن ہے، تہران کی شراکت کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں ایک مضبوط علاقائی سیکیورٹی کا نظام تشکیل دینا اور شام ، عراق ، افغانستان سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کی صورتحال کو مستحکم کرنا ناممکن ہے