حکومت نے آزادی ما رچ کے سامنے گھٹنے ٹیک د یئے

اسلام آباد(آئی این پی)حکومت نے جمیعت علمائے اسلام(ف) کو آزادی مارچ کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ مارچ کی اجازت سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں پر عمل سے مشروط کی گئی ہے جبکہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر مارچ قانون کے مطابق ہوا تو روکا نہیں جائے گا ۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو حکومتی ترجمان کے مطابق پرویز خٹک کی سربراہی میں مذاکراتی ٹیم نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے جس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر مارچ قانون کے مطابق ہوا تو روکا نہیں جائے گا۔ملاقات میں پرویز خٹک نے وزیراعظم کو اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں سے متعلق آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کو اپوزیشن سے مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق عدالتی فیصلے موجود ہیں ، عدالتی فیصلوں پر عمل کی حکمت علی وزارت داخلہ طے کرے گی۔ پرویز خٹک کا کہناتھا کہ کوشش ہے کہ اپوزیشن کو 27 اکتوبر سے پہلے مذاکرات پر منا لیں گے اور امید ہے کہ اپوزیشن ہماری بات مان لے گی۔ ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ افراتفری اور انتشار کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی ۔ترجمان مذاکراتی کمیٹی نے کہا کہ حکومت جمہوری روایات پر پختہ یقین رکھتی ہے۔واضح رہے کہ جمیعت علماء اسلام(ف) نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں آزادی مارچ کی اجازت کے لیے وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ کو درخواست دے رکھی ہے جس پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔