چین ایران کے جوہری مسئلے سے متعلق جامع معاہدے کو برقرار رکھنے کیلئے پرامید ہے ، وانگ ای

ویانا (آئی این پی ) چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ چین ایران کے جوہری مسئلے سے متعلق جامع معاہدے کو برقرار رکھنے کے حوالے سے پرامید ہے ، تمام فریقین معاہدے کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہوں،معاہدے کی ناکامی کے عدم جوہری پھیلاو کی کوششوں اور مشرق وسطی کی صورتحال پر سنگین منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چین کے ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ ای نے ویانا میں آسٹریا کی وزیر خارجہ کارین کینیسل کے ہمراہ مشترکہ نیوز بریفنگ سے خطاب کیا۔انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران کے جوہری مسئلے سے متعلق وزرا خارجہ کے آئندہ اجلاس سے مذکورہ معاہدے کو برقرار رکھنے اور اس پر عمل درآمد کے حوالے سے یقینی طور پر یک جہتی کا ایک واضح پیغام جائے گا۔اطلاعات کے مطابق ایران کے جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد معاہدے میں شامل دیگر فریقین چین ، فرانس ، جرمنی ، روس ، برطانیہ اور ایران کے وزرا خارجہ کا یہ پہلا اجلاس ہو گا ۔ چینی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ تمام فریقین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ معاہدے کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ معاہدے پر عمل درآمد میں ناکامی نہ صرف ایران کے جوہری مسئلے کو متاثر کرے گی بلکہ عدم جوہری پھیلاو کی کوششوں اور مشرق وسطی کی صورتحال پر بھی سنگین منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے وزرا خارجہ کے اجلاس کو "بروقت” اور "ضروری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین مذکورہ معاہدے پر عمل درآمد اور اسے برقرار رکھنے کے لیے یورپی فریقین کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہے۔ انہوں نے کہا تجارتی تحفظ پسندی تنگ نظر رویہ ہے جس میں دوسروں کو نقصان پہنچاتے ہوئے اپنے لیے فوائد نہیں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر قسم کی یکطرفہ پسند سرگرمی عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں کی خلاف ورزی اور کثیرالطرفہ تجارتی نظام کے لیے نقصان دہ ہے جس سے عالمی معیشت کی بحالی پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے۔وانگ ای نے کہا کہ چین نہ صرف اپنے قانونی مفادات کے تحفظ بلکہ یورپی یونین سمیت مختلف ممالک کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے بھی تجارتی تحفظ پسندی کی مخالفت کرتا ہے۔وانگ ای نے کہا کہ چین اور یورپ کثیرالطرفہ تجارتی نظام سے مستفید ہونے والے اور اس کا تحفظ کرنے والے ہیں ۔حالیہ صورتحال میں چین اور یورپ کو کثیرالاطرافی اصول کے مطابق آزاد تجارتی نظام کا مشترکہ تحفظ کرنا چاہیئے۔چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین اس وقت یکطرفہ پسند رویے اور تجارتی تحفظ پسندی کی مخالفت کے لیے صف اول میں کھڑا ہے اور نہیں چاہتا کہ کوئی چین کی پیٹھ میں چھرا گھونپے۔