چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ انسانی برادری کی مساوی قسمت کا منصوبہ ہے ،خصوصی تجزیہ

بیجنگ(آئی این پی)چین نے چالیس سال قبل کھلے پن کا فیصلہ کیا تھا اور دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ قومی ترقی کیلئے ان کی سوچ یک رخی نہیں ہے۔ گذشتہ صدی کے دوسرے نصف میں جب پورا مغرب سوشل ازم کیخلاف نظریاتی جنگ میں مصروف تھا تو چین بڑی خاموشی کیساتھ اپنی کامیابیوں کی طرف رواں دواں تھا۔ترقی پذیر دنیا کیلئے آج انسانی ترقی کے چینی نصاب میں بے مثال سبق موجود ہے۔چین نے جو سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے وہ شاید ملک سے غربت کا خاتمہ ہے آزاد ادارے جن میں اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک شامل ہیں اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں جبکہ ورلڈ بینک اس یقین کا اظہار کرتا ہے کہ 1980کی دہائی سے اب تک چین کے 80کروڑ عوام کو غربت سے نجات دلائی جا چکی ہے۔ چین کا غربت سے نجات دلانے کا عالمی مرکز یہ نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ 1981سے 2013تک 85کروڑ افراد کو غربت سے نجات دلائی گئی ہے۔اس سے چین میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے افراد کی تعداد 88فیصد کے بجائے اب صر ف 1.85فیصد رہ گئی ہے۔چین نے یہ سب کچھ کیسے کر لیا ہے؟اس کے سب سے بڑی وجہ چین کا غربت میں کمی کا پروگرام ہے جس کے ذریعے پسماندہ علاقوں میں غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی توجہ دی گئی، پروگرام میں نجی کمپنیوں نے بھی حصہ لیا۔جن میں علی بابا کا رورل تاؤ باؤ پروگرام بھی شامل تھا۔چین نے بین الاقوامی مالیاتی تحفظ کی ذمہ داریاں بھی اٹھائی چینی حکومت نے اپنا وزن آب وہوا کی تبدیلی کے پیرس معاہدے میں ڈال دیا۔جس سے مقامی ماحولیاتی حالات بہتر بنانے کی کوششیں سامنے آئیں اس سلسلے میں ایک قانون متعارف کرایا گیا اور پانچ سالہ پروگرام کے تحت خصوصی اہداف مقرر کئے گئے اور خلاف ورزی پر سزائیں دی گئیں۔ مزید برآں اپنے کارکنوں کی عمر اور اجرت میں اضافے کیلئے اقدامات کئے گئے چین کے سرمایہ کار مغربی مہارت چوتھے صنعتی دور کیلئے استعمال میں لا رہے ہیں، میڈ ان چائنہ 2025کا منصوبہ صنعتی ترقی کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ملک میں بلدیاتی حکومتوں کو با اختیار بنایا گیا ہے اور چینی ترقی کا ایک ہتھیار ہے، چینی ترقی کا ایک اور راز کے اس نے دوسرے ملکوں کی پیداوار میں سرمایہ کاری کی ہے اس سلسلے میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ قدیم شاہراہ ریشم کی بحالی کا منصوبہ ہے جس سے بڑی معیشتیں چینی راستے پر چل کر خوشحالی حاصل کر رہی ہیں۔چین کم ترقی یافتہ ممالک میں 2030تک سرمایہ کاری میں اضافہ کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے 12ارب ڈالر فراہم کر رہا ہے۔چین کا بنی نوع انسان کو مساوی قسمت کی برادری میں تبدیل کرنے کا پروگرام بھی بہت اہم ہے۔