چین کی کھلے پن اور تعاون کی پالیسی کو دنیا بھر میں تسلیم

 بیجنگ(آئی این پی)چین کی کھلے پن اور تعاون کو فروغ دینے کی کامیابیوں کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا گیا ہے اور دنیا بھر میں ان کا خیر مقدم کیا گیا ہے، بیجنگ سے جاری ہونے والے وائٹ پیپر میں عالمی تجارتی تنظیم(ڈبلیو ٹی او) کے بارے میں چین کے وعدوں کی پابندی کی تمام تفصیل دی گئی ہے جوکہ چین کی کھلے پن کی پالیسی کی عکاس ہے،چین نے عالمی تجارتی تنظیم کے بارے میں اپنے تمام وعدوں کو مکمل طور پر پورا کیا ہے اور اپنی مارکیٹ پوری دنیا کے لیے کھول دی ہے اور تمام ممالک اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، چین کھلے پن کی پالیسی کی مشترکہ عالمی ترقی کے حصول کیلئے فعال پیش رفت کر رہا ہے چین اپنے بین الاقوامی تجارتی شراکت داروں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اقتصادی عالمگیریت کو مزید کھلے پن اور سب کے لیے متوازن فوائد کی طرف لے جا رہا ہے۔عالمی تجارتی تنظیم کے ترجمان کیتھ راک ویل نے کہا ہے کہ ڈبلیو ٹی او سیکرٹریٹ تنظیم کے ساتھ چین کی زبردست حمایت کا خیر مقدم کرتا ہے،چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شِنہوا کے مطابق امریکہ کو کئی ممالک کی طرف سے جن میں میکسیکو،کینیڈا، بھارت،ترقی اور یورپی یونین شامل ہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔کیونکہ وہ اپنے مفادات کو دیگر مفادات کے مقابلے میں بالاتر سمجھتا ہے۔اس کے تجارتی معیار غیر منصفانہ اور معکوس ہیں۔ان تمام ممالک میں امریکی درآمدی ڈیوٹی کیخلاف جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔امریکی کی یکطرفہ پسندی تجارتی پالیسی کی حمایت کرنے کے بجائے امریکی تیار کنندگان پریشان اور بے چین ہو گئے ہیں کیونکہ یہ پالیسی ان پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ وائٹ پیپر میں کہا گیاہے کہ امریکہ چین پر غلط الزام تراشی کے بجائے اپنی غلطیوں کا جائزہ لے اگر اس نے اپنی غلطیاں درست نہ کی تو اس سے نا صرف خود اسے بلکہ دیگر ممالک کو بھی نقصان ہو گا۔ چین پر غیر قانونی تجارتی کارروائیاں کرنے کا الزام لگانا دراصل امریکہ کی طرف سے تجارتی جنگ کی جلتی پر تیل ڈالنا ہے۔امریکہ کی طرف سے یہ الزامات بعض مقاصد کیلئے ہیں جو وہ تجارتی جنگ کے لیے لگا رہا ہے،وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ تجارت تمام فریقوں کے مفادات کیلئے دوطرفہ فوائد پر مبنی کیلئے ہونی چاہیے، تاریخ نے کئی بار یہ ثابت کیا ہے کہ تجارتی جنگ کا دور گزر چکا ہے،اب یہ غیر موثر ہے تاہم چین کی امریکی الزامات کو قبول نہیں کریگا۔خواہ اس کی جو بھی وجوہات ہوں