حکومت کا یوریا کھاد کی قیمت میں 600روپے اضافے کا اعتراف

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی میں حکومت نے ایک سال کے دوران یوریا کھاد کی بوری کی قیمت میں 600 روپے اضافے کا اعتراف کیا ہے،جبکہ چیئرمین کمیٹی نے رواں سال کپاس کی ایک تہائی فصل موسمیاتی تبدیلی کی وجہ تباہ ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے حکومت سے کاٹن ایمرجنسی ڈکلیئر کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کمیٹی ارکان نے آٹے کی قیمت میں تین سو روپے اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس ساڑھے چھ ملین ٹن گندم کا سرکاری سٹاک موجود ہے، اس سال بارشوں اور طوفان کی وجہ سے آخری مہینے میں گندم کی فصل بہت تباہ ہوئی،یوریا کھاد کی بوری کی قیمت ایک سال پہلے 1400 سو روپے تھی جبکہ اب دو ہزار روپے ہے۔بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سید مظفر حسین شاہ کی صدارت میں ہوا،اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایک تہائی کاٹن کی فصل تباہ ہو گئی ہے، کاٹن کا ہدف 15 ملین بیلز کاتھا لیکن دس ملین بیلز بھی مشکل ہوگا،کاٹن ایمرجنسی ڈکلیئر کی جائے ،وزیراعظم اس حوالے سے کمیٹی بنائیں ، نقصان موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہوا ہے ، اس کا ملک کی معیشت کو بہت بڑا نقصان پہنچے گا،سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکورٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ ابتدائی ہدف 15 ملین بیلز کا تھا لیکن حتمی ہدف 13 ملین بیلز رکھا گیا ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ ہدف بھی پورا نہیں ہوگا، کمیٹی نے حکومت سے پی اے آر سی اور پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کو ریسرچ کے شعبے کے لیئے فوری گرانٹ جاری کرنے کی سفارش کر دی