پاکستان کی خودمختار ضمانتوں کی مالیت 32کھرب روپے تک پہنچنے کا امکان، ویلتھ پاک رپورٹ

اسلام آباد(آئی این پی ) حکومت پاکستان کی جانب سے دی جانے والی خودمختار ضمانتوں کی مالیت 30 جون 2022 تک32 کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ملک میں معاشی صورتحال سے متعلق تجزیاتی رپورٹس دینے والے معروف ادارے” ویلتھ پاک” کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہنگامی ذمہ داریوں سے متعلق بیان کے مطابق حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے دوران 493 ارب روپے کی نئی خودمختار ضمانتوں کے متوقع اجرا سے 30 جون تک خودمختار ضمانتوں کی کل مالیت 32 کھرب روپے تک پہنچے کی توقع ہے،پاکستان کی ہنگامی ذمہ داریاں بنیادی طور پر سرکاری شعبے کے کاروباری اداروں (پی ایس ایز)کی جانب سے جاری کردہ ضمانتیں ہیں۔ خودمختار گارنٹی عام طور پر اہم سماجی اور اقتصادی فوائد کے ساتھ سرکاری اداروں کے ذریعے شروع کیے گئے منصوبوں یا سرگرمیوں کی مالی فعالیت کو بہتر بنانے کے لیے دی جاتی ہے ۔ اس سیسرکاری شعبے کی کمپنیوں کو کم قیمتوں پر یا زیادہ سازگار شرائط پر رقم ادھار لینے کا موقع ملتا ہے۔مالی سال کے دوران جاری کی جانے والی نئی حکومتی گارنٹیوں کا حجم مالیاتی ذمہ داری اور قرض حد بندی ایکٹ کی رو سے محدود ہے جس کے مطابق حکومت جی ڈی پی کے 2% سے زیادہ رقم کی مجموعی ضمانت نہیں دے سکتی۔ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے ستمبر 2021 کے دوران، حکومت نے 64 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 0.1 فیصد کے مساوی تازہ یا رول اوور گارنٹی/ لیٹرز آف کمفرٹ (ایل او سی) جاری کیے۔ مجموعی طور پر موثر ضمانتوں کی قدر 28کھرب روپے جبکہ بقایا اسٹاک ستمبر 2021 کے آخر تک 24کھرب 72ارب روپے تھا۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے قرض پروگرام کی بحالی کے لیے حکومتی ضمانتوں کی تفصیلات قومی اسمبلی کے سامنے پیش کرنے کی شرط عائد کی تھی۔ بلحاظ سیکٹر پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل) کے حق میں 915 بلین روپے کی ضمانتیں جاری کی گئیں، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے لیے 829 ارب روپے اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے حق میں 214 ارب روپے کی ضمانت دی گئی ۔ سندھ اینگرو کے حق میں 69 ارب روپے، نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے لیے 58 ارب روپے اور دیگر کیٹیگری میں 388 ارب روپے کی ضمانتیں جاری کی گئیں۔ ستمبر 2021 کے آخر میں کموڈٹی آپریشنز کا بقایا سٹاک 718 ارب روپے تھا۔وزارت خزانہ کا موقف ہے کہ ڈسٹری بیوشن پروگرامز کے تحت کمیوڈٹی آپریشنز کے لیے جاری کردہ ضمانتیں جی ڈی پی کے %2 کی مقررہ حد میں شامل نہیں ہیں ویلتھ پاک کے مطابق ضمانتیں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی)، پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے کئے گئے کموڈٹی فنانسنگ آپریشنز کے لییجاری کی گئی ہیں۔بقایا گارنٹی اسٹاک کی صورتحال کے مطابق %83 گارنٹی پاور سیکٹر، %9 ہوا بازی اور %9 مالیاتی، مینوفیکچرنگ، تیل اور گیس اور دیگر شعبوں کے لیے جاری کی گئیں ۔ شرح سود کی بنیاد پر بریک اپ سے پتہ چلتا ہے کہ 1,653 ارب روپے (%67) کی ضمانتیں فلوٹنگ ریٹ پرجبکہ 820 ارب روپے (%33) کی مقررہ شرح پر جاری کی گئیں۔اس میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے دوران پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) منصوبوں کے حق میں 28 ارب روپے کی ضمانتیں جاری ہونے کی توقع ہے، روزویلٹ ہوٹل، نیویارک کے لیے 5 ارب روپے، پاکستان اسٹیل ملز کے لیے 3 ارب ،نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے لیے 20 ارب اور جامشورو اور لاکھڑا پاور پلانٹس کے لیے 20 ارب روپے۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنزکے حق میں 17 ارب ، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی(واپڈا) کے لیے 50 ارب ، کامیاب پاکستان پروگرام کے لیے 40 ارب اور کامیاب جوان(یوتھ انٹرپرائزز سکیم)کے لیے 10 ارب روپے کی ضمانتیں جاری کی جائیں گی۔ 306 ارب روپے کی ضمانتیں دوسروں کے زمرے میں جاری کی جائیں گی۔