حرمین 2030 ٹیکنالوجی اور تخلیق سے عبارت ہوگی :امام کعبہ شیخ السدیس کیلئے اعتدال پسندی کو فروغ دینے پر ایوارڈ

ریاض (آئی این پی )اعتدال پسندی کو فروغ دینے پر امام کعبہ کے لیے قصیم ایوارڈکا اعلان کیاگیا ،امام کعبہ شیخ عبدالرحمان السدیس نے کہاہے کہ ہمارا ملک ، ہمارے سربراہان اور ہمارے علما امتیازی خوبیوں کے حامل ہیں،حرمین 2030 ٹیکنالوجی اور تخلیق سے عبارت ہوگی ،مصنوعی ذکاوت امتیاز اور فائدہ مندی سے پر ہوگی ، مملکت کے سربراہ درست منہج کو نمایاں کرنے میں بہت اچھی کوششیں کررہے ہیں جو کہ اعتدال و میانہ روی کا منہج ہے اور جس نے پوری دنیا میں ذہنی تصویر بہتر کرنے میں حصہ داری نبھائی ہے اور جس نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے مقابلے میں کردار ادا کیا،شیخ سدیس نے امن وآشتی کی ثقافت کو عام اور مضبوط کرنے اور ان انتہا پسندانہ افکار کے مقابلے میں مملکت سعودی عرب کے قائدانہ کردار پر زور دیا ۔قصیم ایوارڈ برائے تخلیقی کام سے نوازے جانے کے بعد شیخ سدیس نے کہاکہ ہمارا ملک ، ہمارے سربراہان اور ہمارے علما امتیازی خوبیوں کے حامل ہیں … حرمین 2030 ٹکنالوجی اور تخلیق سے عبارت ہوگی اور مصنوعی ذکاوت امتیاز اور فائدہ مندی سے پر ہوگی ۔

انہوں نے کہاکہ جب ہجری سال کے شروع میں رئاسہ نے  تہذیبی وژن ، مستقبل کی توقعات ، جوانوں کی ترقی ، عورتوں کو باختیار بنانا ،ٹیکنالوجی میں تخلیقیت اور مصنوعی ذہانت کے امتیاز اور فائدہ مند  کے شعار کے تحت اپنی تاریخ میں سب سے بڑے اور ہمہ گیر ڈھانچے کا اعلان کیا نیز اس نے مملکت کے وژن 2030 کے ساتھ چلتے ہوئے عالمی قیادت کو رئاسہ عامہ میں آنے والے مرحلے کی شناخت کے طور پر اپنایا تو اس نے تفوق اور تخلیقی کمال کے شعار کو اپنے لیے چراغ راہ بنایا اور رئاسہ عامہ برائے امور مسجد حرام و مسجد نبوی نہ صرف یہ کہ تفوق و تخلیقی کمال کی نمائندگی کرنے لگی بلکہ اس نے تفوق کی ثقافت کو عام کرنا شروع کیا ۔

انہو ں نے کہاکہ 2030 وژن سے ہم آہنگی کی اور ان تخلیقی کاموں کو تقویت پہنچانا شروع کیا جو عالمی خدماتی تفوق کے نت نئے امور کا پاس ولحاظ رکھتے ہیں ۔ اسی طرح ان پلانوں اور ترقیاتی پروگراموں کے مطابق کام کرنا شروع کیا جو حرمین شریفین میں خدمت کے نظام کی ہمہ گیر ترقی کے مقاصد کو پورا کرتے ہیں اور اسی طرح ادارہ جاتی و میدانی عمل کے نظام میں بہتری اور شفافیت کے معیاروں کے مطابق کام شروع کیا اور ساتھ ہی حرمین کے زائرین کو پیش کی جارہی خدمات کی پیش کش کے معیار کو ان پلانوں اور پروگراموں کے مطابق بلند کیا جو ان اسٹریٹجک مقاصد کو پوار کرتے ہوں جنہیں مملکت حاصل کرنا چاہتی ہے ۔

ہم ممتاز لوگوں میں سے کیوں نہیں ہوسکتے ؟

انہوں نے کہاکہ جب رئیس عام برائے امور مسجد حرام و مسجد نبوی شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس تمغہ قصیم برائے مہارت و تخلیقیت سے اعتدال کے فروغ اور وسطیت کے نشر و اشاعت کی شاخ کے ضمن میں اختتامی اجلاس کے دوسرے دورے میں نوازے گئے جو کہ شہزادہ ڈاکٹر فیصل بن مشعل بن سعود بن عبدالعزیز امیر خطہ قصیم ،رئیس مجلس ادارت قصیم ایوارڈ برائے مہارت و تخلیقیت کے زیر نگرانی منعقد ہوا تو شیخ سدیس نے مہارت کے مفہوم کو مزید واضح کیا جب آپ نے ایوارڈ سے نوازے جانے کے بعد اپنی تاثیر سے پر گفتگو میں کہا کہ ہمارا ملک مہارت و کمال کا ملک ہے ۔ ہمارے سربراہان ، علما اور عوام تفوق ومہارت پیدا کرنے والے ہیں تو ہم متفوقین میں سے کیوں نہ ہوں ؟

درست منہج کو واضح کرنا اور دہشت گردی کا مقابلہ

شیخ سدیس نے واضح کیا کہ اس ملک کے سربراہ درست منہج کو نمایاں کرنے میں بہت اچھی کوششیں صرف کررہے ہیں جو کہ اعتدال و میانہ روی کا منہج ہے اور جس نے پوری دنیا میں ذہنی تصویر بہتر کرنے میں حصہ داری نبھائی ہے اور جس نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے مقابلے میں کردار ادا کیا ہے ۔

اسمارٹ ٹیکنالوجی کے استعمال میں مہارت

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مہارت اور تخلیقت دو ایسے کارگر آلات ہیں جنہیں رئاسہ نے حرمین شریفین کی خدمت میں لگایا ہے اور جن سے بڑے کمال کے نتائج رونما ہوئے ہیں جن سے مثبت اکتشافات حاصل ہوئی ہیں اور جو واضح طور پر ارض واقع پر منعکس ہوئی ہیں جیسے اسمارٹ ٹکنالوجی ، مصنوعی ذہانت اور سینی ٹائزر اور زمزم روبوٹ کا استعمال اس کے علاوہ ہدایاتی روبوٹ کا استعمال اور ساتھ ہی حرمین شریفین کے علمی اور دعوتی کردار کو نمایاں کرنا اور ان کے بلند پیغام کو عام کرنا وغیرہ ۔

نرمی کو مضبوط کرنے میں مملکت کا کردار

شیخ سدیس نے امن وآشتی کی ثقافت کو عام اور مضبوط کرنے اور ان انتہا پسندانہ افکار کے مقابلے میں مملکت سعودی عرب کے قائدانہ کردار پر زور دیا جو دین اسلام کے ان اصول و مبادی سے کوئی تعلق نہیں رکھتے جو نرمی و رحمت اور اعتدال و میانہ روی کے اقدار کو مضبوط تھامنے پر قائم ہیں ۔ آپ نے شہزادہ ڈاکٹر فیصل بن مشعل امیر خطہ قصیم کی کوششوں کو گراں قدر بتایا جو وہ مہارت و تخلیقیت کے حصول اور اعتدال و میانہ روی کی اشاعت میں صرف کررہے ہیں۔ شیخ سدیس نے قصیم ایوارڈ برائے مہارت و تخلیقت اور مملکت کی سطح پر وہ جو نمایاں علمی اور منہجی چیزیں اپنے تمام معیاروں اور راہ عمل میں پیش کررہے ہیں اسے سراہا اور ایوارڈ کے بارے میں آپ نے کہا کہ یہ مہارت کے لیے قائد کی حیثیت رکھتا ہے ۔
قصیم کے جوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے اعتدال ومیانہ روی ایوارڈ
شیخ سدیس نے قصیم کے جوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے اعتدال و میانہ روی ایوارڈ کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ ایوارڈ تشجیعی ہے تاکہ خطہ قصیم کے جوان لڑکوں اور لڑکیوں کی اسلام سے مخصوص اعتدال ومیانہ روی کے افکارپر ہمت افزائی کی جائے ۔شیخ سدیس نے اعلان کیا کہ مملکت کی ان کوششوں کیضمن میں کہ جوانوں کے دلوں میں میانہ رو اور معتدل اسلام کے افکار کو گہرایا جائے قصیم کی شاخ معہد اعتدال و میانہ روی خطہ کے جوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لییتشجیعی انعام کی تنظیم و ترتیب کاکام کرے گی ۔آپ نے واضح کیا کہ جو انعام خطہ کے جوان لڑکوں اور لڑکیوں کو دیا جائے گا وہ تشجیعی ہوگا اور ہمت افزائی کے لیے دیا جائے گا تاکہ وہ اس کے منہج اعتدال سے واقف ہونے میں تعاون کریں اور ان انتہا پسندانہ افکار کا مقابلہ کریں جو دین اسلام کے نرمی و رحمت پر قائم اقدار و مبادی سے کوئی تعلق نہیں رکھتبے ۔
آپ نے وضاحت کی کہ معہد کئی سارے مقاصد کے حصول کی کوشش کرے گا جو معتدل فکر کی نشرواشاعت میں اس کے عظیم کردار کو بیان کرے گا اور ایسے پروگرامز شروع کرے گا جو وسطیت کو مضبوط کریں گے ، انتہا پسندی کا مقابلہ کریں گے ۔ معہد اعتدال کے میدان میں علمی بحوث جاری کریگا اس کے علاوہ سیاسی اور سماجی طور پر اعتدال کے سلسلے میں مملکت کے منہج کو نمایاں کرے گا ۔

شیخ بن حمید تخلیقیت ایوارڈ سے نوازے گئے

شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے ، کبار علما کونسل کے رکن ، مسجد حرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید کو قصیم ایوارڈ برائے مہارت و تخلیقیت سے نوازے جانے پر مبارک باد پیش کی جو اعتدال کے فروغ اور میانہ روی کی نشرواشاعت کی شاخ کے ضمن میں پہلے دورے میں انہیں دیا گیا ۔ آپ نے اعتدال و میانہ روی کے اقدار کو مضبوط کرنے میں اور اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں مملکت کے ثابت اور روشن مواقف کی مدام تاکید میں اور تہذیبی اور عالمی بقائے باہم اور سلامتی کے حصول میں ان کے منفر منہج کو گراں قیمت بتایا ۔

کبار علما کونسل کے رکن ، امام و خطیب مسجد حرام معالی الشیخ ڈاکٹر صالح بن حمید قصیم ایوارڈ برائے مہارت و تخلیقیت سے نوازے گئے ۔ آپ کو یہ ایوارڈ اعتدال کے فروغ اور وسطیت کی نشرواشاعت کے ضمن میں پہلے دورے کے اختتامی اجلاس میں دیا گیا جو کہ خطہ قصیم کے امیر محترم کے زیر نگرانی منعقد ہوا ۔ شیخ صالح بن حمید نے زور دیا کہ دین اسلام اعتدال و میانہ روی کے منہج کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے اور معاشروں کو گمراہی اور گمراہ فکر سے بچاتا ہے ۔ آپ نے تمام لوگوں کو ابھارا کہ وہ افراط و تفریط سے پاک معتدل منہج میں جلوہ گر اسلامی اقدار وروایات کو اپنے اندر جاگزیں کریں ۔
رئاسہ الحرمین پوری قوت سے ادارہ جاتی کاموں کو مضبوط کرنے اور مسجد حرام اور مسجد نبوی کے زائرین کے لیے پیش کی جانیوالی میدانی خدمات کو بہتر بنانے کی راہ پر چل رہا ہے اس شعار کے تحت  تہذیبی وژن ، مستقبل کے آفاق ، جوانون کے سر پر تاج رکھنا ہے ، خواتین کو بااختیار بنانا ہے ، ٹکنالوجی میں تخلیقیت ہوگی اور مصنوعی ذہانت میں مہارت اور لطف