چینی محققین نے پاکستان کے ساتھ زرعی تعاون میں اضافہ کردیا

لانژو(شِنہوا) چین کے شمال مغربی صوبے گانسو کی لانژو یونیورسٹی کے57 سالہ پروفیسر لونگ روئی جن کوویڈ-19 کی وبا کے باعث پاکستان میں توانائی اور خوراک کی قلت کا شکار اپنے پاکستانی دوستوں کی  آن لائن لیکچرسے مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لونگ 2016 سے 2019 تک باقاعدگی سے پاکستان کا دورہ کرتے رہے ہیں جہاں وہ پاکستانی ماہرین اور کاشتکاروں سے اپنی زرعی تکنیک اور مہارتوں کا تبادلہ کرتے۔

انہوں نے کہا کہ گانسو میں زمین کی بناوٹ اور آب و ہوا پاکستان ،خصوصاً  اس کے شمالی علاقے سے ملتی جلتی ہے۔اس لئے ان کا زرعی تجربہ جنوبی ایشیا کے اس ملک کے  لئے ایک بڑا حوالہ ہے۔

بجلی کی قلت کی وجہ سے ، پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو عام طور پر اپنی زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے پانی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے لونگ اور ان کی 40 کے قریب محققین کی ٹیم نے گانسو میں تیار کردہ شمسی پمپ کی سہولت کو 2018 میں پاکستان میں متعارف کرایا ، اور مقامی زرعی ماہرین نے اس ٹیکنالوجی کو آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیا۔

قومی زرعی  تحقیقاتی مرکز کے سربراہ بشیراحمد نے کہا کہ اگر یہ ٹیکنالوجی پاکستان کے خشک سالی سے متاثرہ شمالی علاقوں میں مقبول ہوتی ہے تو گندم جیسی فصلوں کی پیداوار میں بہتری آسکتی ہے اور فوڈ سیکیورٹی کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔

بیج کی ناقص کوالٹی کی وجہ سے پاکستان میں جانوروں کے چارہ کی کم پیداوار کو دیکھتے ہوئے ، لونگ کی ٹیم نے مئی میں برسیم اور جئی کے  30 کلو گرام بیج پاکستان میں اپنے دوستوں کو بھیجے۔

لونگ کی ٹیم کے ایک رکن جنگ شیاو پھنگ نے بتایا کہ ٹیم نے پاکستان میں تکنیکی کارکنوں کو پلانٹیشن اور زرعی پروسیسنگ کی تربیت کے لئے سائٹ پر لیکچر دئے ۔ٹیم کی جانب سے لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے دی گئی تکنیکی مدد سے 30کلوگرام بیج آزمائشی کھیتوں میں بویا گیا۔

پائیدار ، سبز زرعی ترقی کو فروغ دینے  کے لئے، لانژویونیورسٹی کے محققین نے اسلام آباد میں ایک بائیو ماس انرجی سینٹر کے قیام کے لئے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی مدد کی تاکہ زرعی فضلہ کو بائیو ماس انرجی میں تبدیل کیا جاسکے۔

لونگ نے کہا کہ یہ تکنیک پاکستان اور دیگر ایشیائی ممالک میں بڑے پیمانے پر استعمال کی جاسکتی ہیں جو توانائی کی قلت کا سامنا کررہے ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پیداوار اور استعداد کار کو بڑھانے ، فوڈ سیکیورٹی کی ضمانت اور مقامی لوگوں کے ذریعہ معاش میں بہتری لانے کے لئے زیادہ مربوط آزمائشی مقامات  کے قیام سے  وسطی اور جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون مزید گہرا ہوگا۔

لونگ نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے فریم ورک کے تحت ، پاکستان اور چین کے مابین تعاون سے مزید علاقوں میں زیادہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

لونگ نے مزید کہا کہ  لانژو یونیورسٹی سے 100 سے زائد پاکستانی  طلبا زراعت کی تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔