چین پاکستان کو کپاس کی پیداوار میں اضافے کے لئے ٹھوس مدد فراہم کر رہا ہے،عاصم سلیم باجوہ

اسلام آباد (آئی این پی ) چیئرمین چین پاکستان اقتصادی راہداری اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ آئرن برادر چین کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے ریسرچ میں معاونت کے ساتھ ساتھ مشینری بھی فراہم کر رہا ہے۔گوادر پرو کے مطابق ایک اجلاس میں عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کسانوں کو ہر شعبے میں مکمل سپورٹ کے لیے تیار ہے،ملکی معیشت میں کپاس اور ٹیکسٹائل کا حصہ 8 فیصد ہے اور ہم سب کو مل کر پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ گورنر چوہدری محمد سرور کی سربراہی میں زرعی کمیٹی نے وفاقی حکومت سے کپاس کی فی من امدادی قیمت 5 ہزارکرنے اور کپاس کے کاشتکاروں کوبراہ راست سبسڈی دینے کی سفارش کی۔کمیٹی اجلاس میں کپاس کے کاشتکاروں کو درپیش مشکلات کے حل سمیت کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ اینڈ ریسرچ سید فخر امام ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شامل ہوئے۔گورنر چوہدری سرور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے،بھارت سے کپاس نہ منگوانے کا حکومتی فیصلہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے سبسڈی مرحلہ وار براہ راست کسانوں کو دی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومت اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ کپاس کے کسانوں کو غیر معیاری اور جعلی ادویات فراہم کر نیوالوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔چوہدری محمدسرور نے کہا کہ کپاس کی پیداور بڑھانے کے لیے ٹیکسٹائل انڈسٹری سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر ہونا چاہیے جس کے لیے ہم نے باقاعدہ کام کا آغاز کرد یا ہے اور اپنے کسان بھائیوں کے مسائل کو حل کر نے کے لیے تمام وسائل برووئے کار لائے جائیں گے۔ وفاقی وزیر برائے قومی خوراک و تحقیق سید فخر امام نے کہا کہ سابقہ حکومتیں کپاس کے کاشتکاروں کو مسلسل نظرانداز کرتی رہی ہیں لیکن وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں موجودہ حکومت کاٹن کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی سہولت جاری رکھے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کمیٹی کی پیش کردہ سفارشات کے بعد اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔