بھارتی فوج کی جنسی درندگی,کشمیری خواتین آج بھی انصاف کی منتظر اور عالمی برادری کی بے حسی پر نوحہ کناں

سرینگر (آئی این پی)بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں آج یوم مزاحمت نسواں منایا جا ریا ہے، 1991میں بھارتی فوج کی جنسی درندگی کیخلاف مزاحمت کرنے والی خواتین کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے،بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں ریاستی بربریت کا ایک اور نہ بھولنے والا دن ، کشمیر کے عوام آج یوم مزاحمت نسواں منا رہے ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق بھارتی جبرکے خلاف مزاحمت کی عظیم تاریخ لکھنے والی کشمیری بیٹیوں کو سلام پیش کیا جا رہا ہے، آل پارٹیز حریت کانفرنس کی جانب سے وادی بھرمیں مکمل ہڑتال کی اپیل کی گئی تھی ،23فروری 1991کی سرد رات کو بھارتی فوج کی راجپوتانہ رائفلز کی بٹالین چار کے بے ضمیر فوجی ضلع کپواڑہ کے دیہات کنن اور پوش پورہ میں داخل ہوئے، فوجیوں نیسرچ آپریشن کی آڑ میں تمام مردوں کو قریبی کھیتوں میں لے جا کر باندھ دیا، اس کے بعد ان فوجیوں نے 100سے زائد خواتین کوان کی عمروں کا لحاظ کئے بنا جنسی بربریت کا نشانہ بنایا،انڈین فوجیوں نے بھارت کے مکروہ چہرے پر ایک ایسے سیاہ دھبے کا اضافہ کیا جسے تاریخ کبھی نہ مٹا سکی،انڈین فوج کی اس درندگی کا نشانہ بننے والی خواتین آج بھی انصاف کی منتظر اور عالمی برادری کی بے حسی پر نوحہ کناں ہیں، جب کہ بھارتی حکومت انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔