چینی سرمایہ کاری پاکستان کی زرعی اور صنعتی جدت میں کلیدی کردار ادا کرے گی، سفیرمعین الحق

بیجنگ(آئی این پی) چین میں تعینات پاکستان کے سفیر معین الحق نے کہا ہے کہسی پیک پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں ایک اہم مقام ادا کر رہا ہے، چین کی ترقی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے قابل تقلید مثال ہے، چینی سرمایہ کاری فصلوں کی پیداوار بڑھانے ، آبپاشی کے نظام ، زرعی شعبہ کی قدر میں اضافے اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے اہم ہے، چین اور پاکستان سدا بہار شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں اپنے تعلقات کو مزید بہتر کیا ۔ چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق چین پاکستان زرعی اور صنعتی تعاون انفارمیشن پلیٹ فارم کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم زیادہ اہم بن گیا ہے کیونکہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 70 ویں سالگرہ منا رہے ہیں جبکہ تعاون اس بات کی کی نشاندہی کرتا ہے کہ رواں سال دونوں ممالک مزید منصوبے بنائیں گے ۔چین میں پاکستان کے سفیر معین الحق نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ چین اور پاکستان زراعت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لئے چینی حکومت اور کاروباری اداروں کی حمایت سے زراعت اور صنعتی جدت میں ایک نیا باب ہو گا جس میں دونوں کا مشترکہ فائدہ ہو گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پر امید ہیں کہ چینی حکومت ، وزارت زراعت اور دیہی امور اور چینی کاروباری اداروں کی حمایت سے ہم مشترکہ فوائد کے لئے زراعت اور صنعت میں جدت لا سکتے ہیں ۔ واضح رہے چین پاکستان زرعی اور صنعتی تعاون انفارمیشن پلیٹ فارم کی لانچنگ تقریب آن لائن منعقد ہوئی۔ سفیر نے کہا کہ چین اور پاکستان سدا بہار شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں اپنی تعلقات کو مزید بہتر کیا ہے ، اور تعاون کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو بڑھایا ہے۔ معین الحق نے بتایا کہ پاکستانی حکومت نے معاشرتی و اقتصادی ترقی ، آب و ہوا میں تبدیلی کے تخفیف ، شہر ی انتظام اور قومی ترقی کے لئے وسیع پیمانے پر کوششوں کے لئے زراعت اور صنعت میں کا م کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ہم چین کے ساتھ مشترکہ تعاون اور باہمی جیت کے منتظر ہیں اور پاکستان اور چین کے مابین بڑھتی ہوئی معاشی اور تجارتی انضمام نے ہماری دونوں معیشتوں کو تیزی سے ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم بنا دیا ہے۔ سفیر نے مزید کہا کہ بطور پائلٹ اور اعلی معیار کے منصوبے کی حیثیت سے چین پاکستان اکنامک کوریڈور( سی پیک )پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں ایک اہم مقام ادا کر رہا ہے۔ اپنے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد دونوں فریقوں نے باہمی اتفاق کیا ہے کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مشترکہ فوائد کے ساتھ معاشرتی و معاشی ترقی ، صنعتی ، اور زرعی جدید کاری پر توجہ دی جائے گی۔ گذشتہ سال مارچ میں صدر ڈاکٹر عارف علوی کے بیجنگ کے دورے کے دوران ، دونوں ممالک نے اتفاق کیا تھا کہ سی پیک کے فریم ورک میں زرعی تعاون کو بھی شامل کیا جائے گا۔ جبکہ گذشتہ سال اگست میں ہینان میں منعقدہ دوسرے وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوران اعلی پیداوار والے بیجوں کی پیداوار پر خصوصی توجہ دینے ، فصلوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے علاوہ زراعت پر مبنی صنعت ، زرعی ٹیکنالوجی کے اضافے کے علاوہ کیڑوں پر قابو پانے اور کولڈ چین نیٹ ورک کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ متعلقہ وزارتیں اور دونوں سفارت خانے متعلقہ قیادت کے طے کردہ ان مقاصد کو پورا کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ معین الحق نے بتایا کہ زراعت جی ڈی پی میں تقریبا 18 فیصد کا حصہ ڈالتی ہے ، پاکستان میں کل مزدور قوت کے تقریبا 38 فیصد کے لئے روزگار مہیا کرتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا پاکستان گندم ، گنے ، چاول ، اور مختلف قسم کے کھانے پینے کی پیداوار والے ممالک میں شامل ہے اور دنیا کے سب سے بڑے مویشیوں کا ذرائع پاکستان کی بڑی صنعتوں کیلئے بڑی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا زرعی جد ت میں چین عالمی حیثیت اختیار کر چکا ہے جبکہ 40 سال کی اصلاح اور افتتاحی عمل نے اس کی زرعی زمین کو نئی پیداوار بخشی اور اس کے کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا ہے جس سے ملک میں سبز انقلاب برپا ہوا ۔ سفیر نے کہا کہ چین کی ترقی پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے قابل تقلید مثال ہے کیونکہ یہاں زرخیز زمین، پانی اور چار موسم بھی ہیں جس سے ملک مالا مال ہے ۔