سعودی عرب میں 63 سال سے مقیم پاکستانی ڈاکٹر کاہر طرف چرچا

ریاض (آئی این پی )سعودی عرب میں 63 سال سے مقیم ایک پاکستانی ڈاکٹر کا سوشل میڈیا سمیت ہر طرف چرچا ہو گیا، ڈاکٹر نذیر احمد خان شکل صورت، بول چال اور لباس سے مکمل سعودی معلوم ہوتے ہیں، پچھلے 40 سال سے صرف 30 ریال فیس لیتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں جوایک طرف روزگار کما کر پاکستان کو زر مبادلہ بھیجتے ہیں تو دوسری جانب اپنی محنت اور لگن سے سعودی عرب کی ترقی اور استحکام میں بھی اضافہ کر رہے ہیں۔ مملکت میں ایسے پاکستانیوں کی گنتی ہزاروں میں ہے جو گزشتہ تیس چالیس سالوں سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ ان لوگوں نے سعودی عرب کو ایک پسماندہ ملک سے ترقی یافتہ اور جدید سہولیات سے آراستہ ملک میں بدلتے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سعودی عرب میں ایک ایسا پاکستانی ڈاکٹر بھی مقیم ہے جسے یہاں رہتے ہوئے 63 سال گزر چکے ہیں۔ ایک عرب ویب سائیٹ کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض میں 63 برس سے رہائش پذیر پاکستانی ڈاکٹر کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔یہ پاکستانی ڈاکٹر شکل، صورت، رہن سہن، بول چال اور زندگی بسر کرنے کے لحاظ سے ہر طرح سعودی باشندہ ہی معلوم ہوتا ہے اور اس معاشرے میں رچ بس گیا ہے۔پاکستانی ڈاکٹر نذیر احمد خان کا وڈیو کلپ سرکاری رابطہ مرکز نے سوشل میڈیا میں شیئرکیا جس میں اپنی گفتگو کے دوران نذیر احمد خان بتا رہے ہیں کہ وہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے تین کلینکس میں سے ایک کے ڈائریکٹر رہے ہیں۔ ریاض میں الفوطہ ، مسجد العید اور المرقب نام کے تین پولی کلینک ہوتے تھے ان میں سے وہ ایک ڈائریکٹر تھے۔نذیر احمد خان نے سعودی عرب کے حوالے سے اپنی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک انصاف، رحم دلی اور خیر پسندی سے آباد ہے اور اپنی آخری سانس تک اس کی خدمت کرتا رہوں گا۔نذیر احمد خان نے کہا کہ میرے کلینک میں بوڑھے اور بچے طبی معائنہ کرانے آتے ہیں۔ ان سے معائنہ فیس صرف 30 ریال وصول کی جاتی ہے۔ یہ فیس انہوں نے شاہ فیصل کے زمانے میں مقرر کی تھی تب سے اب تک اسی پر قائم ہیں اور گزشتہ چالیس سال سے وہ 30 ریال سے زیادہ فیس نہیں لیتے۔ وہ انتہائی رحم دل اور غریب پرور ہیں ۔