آسٹریلیا کا نوول کروناوائرس کیخلاف ردعمل ”جنگ جیسی صورتحال“ ہے، آسٹریلین وزیر خزانہ

کینبرا(شِنہوا) آسٹریلیا کے وزیر خزانہ جوش فرینڈن برگ نے کہا ہے کہ ریاست وکٹوریا نوول کروناوائرس کیخلاف جنگ کی حالت میں ہے۔

فرینڈن برگ نے کہا کہ وکٹوریا میں نوول کروناوائرس کی صورتحال بدتر ہونے پر وہ بہت زیادہ پریشان ہوئے تھے کیونکہ کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔

وکٹوریا کی حکومت نے اتوار کی شام کو لاک ڈاؤن کے چوتھے مرحلے میں پابندیوں کا اعلان کیا جن میں سے رات8بجے سے صبح 5بجے تک کرفیو لگانے اور لوگوں کی نقل و حرکت مزید کم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

میلبورن کے مشرقی مضافاتی علاقے کویونگ سے رکن پارلیمنٹ (ایم پی) فریڈن برگ نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ  کوئی نہیں چاہتا تھا کہ یہ صو رتحال یہاں پہنچے،ہم بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں کہ ایک جنگ ہے جس میں وکٹوریا کا ہر رہائشی اگلے محاذ پر ہے۔

گزشتہ رات کی خبر میں کہا گیا تھا کہ ہمیں چوتھے درجے کی پابندیوں میں کرفیو، اسکولوں کی بندش کا سامنا ہوگا اور لوگوں کی نقل وحرکت پر مزید پابندیوں سے وکٹوریا کے شہری بہت زیادہ متاثر ہوں گے۔

ہم اپنے دفاع میں خلاء نہیں چاہتے اس لئے ہر کسی کو نئے اصولوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

چند لوگ بہت سارے لوگوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم وکٹوریا میں ہیں۔

آسٹریلیا میں اتوار کے روز نوول کروناوائرس کے سامنے آنے والے نئے کیسز میں سے 98فیصد کیسز وکٹوریا میں ہیں۔ وکٹوریا میں گزشتہ 7روز سے اتوار تک نئے کیسز کی متوسط تعداد 518 ہے۔

فریڈن برگ نے تصدیق کی کہ لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے سے عالمی وبا کا آسٹریلوی معیشت پر اثر بڑھ جائے گا۔