چینی صدر کا ملک کی معیشت پراعتماد کااظہار، کھلے پن کو وسیع کرنے کا عہد

بیجنگ (شِنہوا)چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ  چین کی طویل المدتی مستحکم معاشی نمو کے بنیادی اصولوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اورنہ ہی  کوئی تبدیلی آئے گی ،ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کو عالمی سی ای اوز کولکھے گئے  جوابی خط میں کیا۔

صدر شی نے اس عہد کا بھی اظہار کیا کہ  چین اصلاحات کو گہرا کرنے اور کھلے پن کی پالیسی کو وسعت دینے کا سلسلہ برقرار رکھے گا اور چینی اورغیر ملکی کاروباری اداروں کوسرمایہ کاری اور ترقی کے لئے بہترین کاروباری ماحول فراہم کرے گا۔

عالمی  سی ای او کونسل ارکان کے نمائندوں کو لکھے گئے خط میں صدر شی نے  کہا کہ وہ چین کی پرامن اور کھلی ترقی پربھرپوراعتماد کرنے،چین میں ٹھہرے رہنے اور چین کی اقتصادی ترقی کے لئے تعمیری تجاویز دینے پر ان کو سراہتے ہیں۔

صدرشی  نے مزید کہا کہ چین کوویڈ- 19 کی وبا  سے نمٹنے اورسماجی و اقتصادی ترقی کومربوط انداز میں آگے لے کر جارہا ہے اور ہر لحاظ سے اعتدال پسند خوشحال معاشرے کی تعمیر اور غربت کے خاتمے میں فیصلہ کن کامیابی کے لئے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اہم پالیسیوں اور اقدامات پر جامع طور پر عمل درآمد کرے گا جس کا مقصد روزگار ، لوگوں کی معاش ، مارکیٹ کے اداروں کی ترقی ، خوراک اور توانائی کا تحفظ  ، صنعتی اوررسد کی ترسیل کا مستحکم سلسلہ اور معاشرے کی سطح پرمعمول کی سرگرمیوں کی چھ ترجیحات  اور روزگار ، مالیات ، غیرملکی تجارت ، غیر ملکی  وملکی سرمایہ کاری اورمارکیٹ کی توقعات کے چھ شعبوں میں استحکام کویقینی بنانا ہے۔

شی  نے کہا کہ چین نئے مواقع کے فروغ اور چینی اور غیر ملکی کاروباری اداروں کے لئے نئے امکانات پیدا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ  ان سی ای اوز نے چین سے  نہ نکلنے کا فیصلہ کرکے صحیح انتخاب کیا ہے۔

 چینی صدر نے کہا کہ آج کی دنیا میں  تمام ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں ،تمام انسان مشترکہ مستقبل کی حامل ایک ایسی جماعت ہیں جن کے دکھ سکھ مشترکہ ہیں اوربرابری کی بنیاد پر تعاون آج کے دورکا رجحان ہے۔