قومی سلامتی کے قانون سے ہانگ کانگ میں استحکام اور خوشحالی آئے گی:سینیٹر مشاہد حسین

اسلام آباد (شِنہوا) پاکستان کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے (ایچ کے ایس  اے آر) میں قومی سلامتی کے تحفظ سے متعلق چین کی قانون سازی اور اس کا نفاذ استحکام کا باعث بنے گا جس سے ہانگ کانگ کی ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار ہوگی۔

شِنہوا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مشاہد حسین نے کہا کہ قومی سلامتی کا کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے گذشتہ ایک سال کے دوران ہانگ کانگ  تخریبی سرگرمیوں کے ساتھ پرتشدد مظاہروں کی زد میں تھا اور داخلی اور بیرونی قوتوں کے درمیان ملی بھگت کی سخت نگرانی نہیں کی جا سکتی تھی۔

سینیٹر  نے کہا کہ  شرپسندوں کومعلوم تھا کہ وہ اس سے بچ نکلیں گے کیونکہ انہیں بیرون ملک سے حمایت بھی حاصل تھی۔ لہذا وہاں عوامل کا ایک مجموعہ تھا۔ میرے خیال میں  سلامتی کے قانون کے نفاذ سے اب اس طرح کی سرگرمیوں کو مزید جاری رکھنا  ناممکن ہوگا۔

سینیٹر نے کہا کہ شرپسندوں نے تشدد کا سہارا لیا ، سڑکیں بند کردی ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا ، اور قائم شدہ اداروں کے کام میں رکاوٹ پیدا کی ، جس سے ہانگ کانگ کے عوام کے معمولات زندگی کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ کاروبار ، مالیات اور سیاحت کے بین الاقوامی مرکز کے طور پر ایچ کے ایس اے آر کے تشخص اور حیثیت کو آہستہ  آہستہ برباد کیا گیا اورغیر مستحکم اور اتار چڑھاؤ کی صورتحال کے باعث  بین الاقوامی کاروباری شعبے کے لوگ شاید وہاں سے منتقل ہونے کی بات کر رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا ہے کہ ایچ کے ایس اے آر کے کاروباری شعبہ نے قومی سلامتی کے قانون کا خیر مقدم کیا ہے کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اس قانون سے استحکام ، ہم آہنگی اور بہتر کاروباری ماحول میں مدد ملے گی ، جو زیادہ سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔

سینیٹر مشاہد حسین  نے کہا کہ ہانگ کانگ چین کا حصہ ہے ، اور ہانگ کانگ کے امور چین کے داخلی امور ہیں جو ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے متعلق ہیں لیکن پرتشدد احتجاج کو غیر ملکی حوصلہ افزائی  یا کسی نہ کسی شکل میں غیر ملکی سرپرستی  حاصل تھی۔

انہوں نے کہا کہ مغربی عناصر اپنے سیاسی مقاصد کے لئے پُرتشدد مظاہروں کی حمایت کرتے رہے اور یہاں تک کہ انہوں نے  ایچ کے ایس اے آر میں حکومت اور سیاسی تبدیلی کے لئے  "رنگ دار انقلاب” کو بھڑکانے کی کوشش کی۔