نوول کروناوائرس برازیل میں نومبر2019 میں لئے گئے گندے پانی کے نمونوں میں موجود تھا:تحقیق

برازیل کے شہر ساؤ پولو میں ایک خاتون ایک پلے کارڈ کے پاس سے گزر رہی ہے جس پر تحریر ہے کہ "کورونا وائرس کے خلاف ہم سب ایک ہیں"(شِنہوا)

ریو ڈی جنیرو (شِنہوا)  برازیل کی ریاست سانتا کترینہ کے دارالحکومت اور دوسرے بڑے شہر فلوریانوپولس میں 27نومبر2019 کو لئے گئے گندے پانی کے نمونوں میں کوویڈ-19 کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے،یہ بات جمعرات کو  گندے پانی پر کی گئی تحقیق سے سامنے آئی ہے۔

برازیل میں وفاقی یونیورسٹی آف سانتا کترینہ (یو ایف ایس سی) کے ایک ریسرچ گروپ کی یونیورسٹی کی سرکاری ویب سائٹ  پر شائع پورٹ میں کہا گیا ہے کہ  27 نومبر ، 2019 فلوریانوپولس میں گندے پانی کے لئے گئے دو  نمونوں میں نئے کروناوائرس ، سارس- کوو- 2 کے ذرات پائے گئے ہیں۔

طبی سائنسنز کے حوالے سے غیر مطبوعہ مواد تقسیم کرنے والی ایک انٹرنیٹ سائٹ میڈ آرکسیو پر29جون،2020 کو شائع ہونے والی تحقیق کا اسکرین شاٹ دکھایا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ برازیل کی ریاست سانتا کترینہ میں نومبر2019 میں لئے گئے گندے پانی کے نمونوں میں کوویڈ-19 کی موجودگی پائی گئی ہے۔

اس تحقیق کے شریک مصنف ، جیسلین فونگارو نے کہا کہ یو ایف ایس سی کے متعدد شعبوں نے اس تحقیق میں حصہ لیا اور یہ  کہہ  ہوسکتا ہے لوگ گندے پانی کے نمونے جمع کرنے سے چند ہفتے قبل نوول کروناوائرس سے متاثر ہوئے ہوں۔

مزید جائزے کے لئے یہ رپورٹ پیش کردی گئی ہے۔

برازیل کے محکمہ صحت کے حکام نے 26 فروری 2020 کو ملک میں نوول کروناوائرس کے پہلے کیس کی اطلاع دی تھی۔