ہانگ کانگ کی بڑی جامعات نے قومی سلامتی کیلئے قانون سازی کی حمایت کردی

جنوبی چین کے ہانگ کانگ میں ہانگ کانگ پولی ٹیکنیک یونیورسٹی ( پو لی یو) کے کیمپس میں طلبہ اور عملہ کے ارکان پیدل چل رہے ہیں۔(شِنہوا)

ہانگ کانگ(شِنہوا) ہانگ کانگ کی بڑی جامعات نے ہانگ کانگ کی قومی سلامتی کیلئے قانون سازی کی حمایت کردی ہے۔آٹھ جامعات کی کونسلز کے چیئرمین نے  ایک مشترکہ بیان میں قانون سازی کی حمایت کی۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہانگ کانگ کے رہائشی ہونے کے طور پر ریاست کی جانب سے ہمیں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اور بدلے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم قانون سازی کی حمایت کرکے ریاست کی حفاظت کریں، اس قانون سازی سے ریاست کے وجود کیخلاف جرائم کی روک تھام ہو گی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ ہم قومی سلامتی کے قانون کی حمایت کرتے ہیں جس کا اطلاق ”ایک ملک، دو نظام“ کے اصول کے تحت ہوگا تاکہ جامعات تحقیق اور سیکھنے کے ذریعے تعلیم کے فروغ کو جاری رکھنا یقینی بناسکیں۔

ان 8 جامعات میں ہانگ کانگ سٹی یونیورسٹی، ہانگ کانگ بیپ ٹِسٹ یونیورسٹی، دی لِنگنان یونیورسٹی، دی چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ، دی ایجوکیشن یونیورسٹی آف ہانگ کانگ، دی ہانگ کانگ پولی ٹیکنیک یونیورسٹی، دی ہانگ کانگ یونیورسٹی برائے سائنس وٹیکنالوجی اور  یونیورسٹی آف ہانگ کانگ شامل ہیں۔

 ہانگ کانگ کی اوپن یونیورسٹی نے الگ بیان میں کہا کہ قومی سلامتی کا ایک بہترین قانون ہانگ کانگ کومحفوظ بنانے،شہریوں کے مجموعی مفادات کا تحفظ اور ہانگ کانگ کو ترقی کرنے میں مدد کرے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہمیں اعتماد ہے کہ ”ایک ملک، دو نظام“ کے اصول کے ساتھ ساتھ اس سے متعلق آزادی اور قانون کی عملداری برقرار اور تحفظ جاری رکھا جائے گا۔