تبت میں امریکیوں کے آزادانہ داخلے کے قانون کی توثیق چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، چینی میڈیا

بیجنگ (آئی این پی ) چین نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تبت میں امریکیوں کے آزادانہ داخلے کے قانون کی توثیق چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے،امریکہ کے اندرونی قانون کو بین الاقوامی قانون پرترجیح دینا، امریکہ کی بالادستی کی سوچ کا عکاس ہے ۔امریکہ کایہ عمل بین الاقوامی تعلقات کے تحت مختلف ممالک کے درمیان تبادلے کے بنیادیاصول کی خلاف ورزی ہے۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق امریکی وائٹ ہاوس نے حال ہی میں تبت میں امریکیوں کے آزادانہ داخلے سے متعلق ایک قانون کی توثیق کی ہے جس کے مطابق چینی حکومت کوامریکی صحافیوں ، سفارت کاروں اور سیاحوں کو بغیر شرائط کے تبت جانے کی اجازت دینی ہوگی ورنہ وہ تمام چینی پالیسی ساز حکام جو امریکیوں کو تبت میں داخل ہونے سیے روکتے ہیں ، انہیں بھی امریکہ میں داخل ہونے سے روک دیا جائے گا.بظاہریہ قانون چین کے تبت میں امریکیوں کے آزادانہ داخلے اور سفر کے لیے ایک کوشش ہے لیکن درحقیقت امریکہ کے اندرونی قانون کو بین الاقوامی قانون پرترجیح دینا، امریکہ کی بالادستی کی سوچ کا عکاس ہے ۔امریکہ کایہ عمل بین الاقوامی تعلقات کے تحت مختلف ممالک کے درمیان تبادلے کے بنیادیاصول کی خلاف ورزی ہے ۔ علاوہ ازیں امریکی پارلیمنٹ کے کئی وفودنے بھی تبت کا دورہ کیا تھا ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبت میں آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ غیر ملکیوں کی ایک بڑی تعداد کے مطابق تبت جانے سے پہلے وہاں کے متعلق ان کے جو خیالات تھے وہاں جانے کے بعد ان میں تبدیلی آئی ہے اور اب وہ تبت کوایک پرکشش سرزمین قرار دیتے ہیں ۔ علاوہ ازیں چین نے بھی دوسرے ممالک کو تبت سے متعارف کروانے کیلئے دل و جان سے کوشش کی ۔چینی حکومت نے تبت میں بنیادی تنصیبات کی تعمیر کو بڑی اہمیت دی ۔ پچھلے سال کے اختتام تک تبت کے ننانوے فی صدگاوں ہائی وے سے منسلک ہوئے اور پچاسی فیصد علاقے تک براڈبینڈ کی رسائی ہوئی ہے ۔ تبت اور بیرونی ممالک کے درمیان سیروسیاحت اور ثقافتی تبادلوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے ۔چین میں کھلے پن کی پالیسی کے نفاذ کے ساتھ ساتھ تبت کا دروازہ بھی یقیناًمزید کھلے گا ۔تبت ان تمام لوگوں کا خیر مقدم کرتا ہے کہ جو تبت کے بارے میں تعصب نہیں رکھتے بلکہ تبت کا احترامکرتے، اس سے محبت کرتے اوراس کی ترقی میں دلچسپی لیتے ہیں تاہم وہ لوگ جو تبت میں تنازعات پیدا کرنا چاہتے ہیں،تبتی باشندے ان کا ہر گز خیر مقدم نہیں کریں گے ۔