چین کے ہانگ کانگ کی جمہوریت کو تباہ کر نے میں ملوث عناصر بے نقاب

بیجنگ (آئی این پی)امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی طرف سے بنائے گئے ’’ فائیو آئیز الائنس‘‘ نے وزرائے خارجہ کا ایک نام نہاد مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے ساتویں قانون ساز کونسل کے انتخابات پر غیر ذمہ دارانہ تبصرہ کیا گیا ہے۔ تبصرے میں کہا گیا ہے انتخابات کے ذریعے’’ ہانگ کانگ میں حقوق اور آزادیاں‘‘ کمزور ہوئی ہیں اور ’’ خودمختاری‘‘ پر قدغن لگی ہے۔ اس کے علاوہ بیان میں ’’ چین-برطانوی مشترکہ اعلامیہ‘‘ کا دوبارہ ذکر کیا گیا ہے۔
ایک ایسے وقت کے مطابق جب ہانگ کانگ میں جمہوریت ایک نئی شکل میں ظاہر ہو رہی ہے، ’’ فائیو آئیز الائنس‘‘ نے بے وقت اور بدنیتی پر مبنی بیان جاری کیا، جو نہ صرف ان کے غصے سے سنبھلنے میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت چندمغربی ممالک ہانگ کانگ کی جمہوری ترقی کو تباہ کرنےوالے بیرونی ’’سیاہ ہاتھ‘‘ ہیں۔
ہانگ کانگ کے انتخابی نظام کی تکمیل کے بعد یہ قانون ساز کونسل کا پہلاانتخاب ہے۔ انتخابی قواعد کے تناظر میں، نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے، اور نشستوں کی تقسیم کے طریقہ کار کو بھی ترتیب دیا گیا ہے۔ جس کا مقصد ہانگ کانگ کے معاشرے کے مجموعی مفادات اور تمام شعبوں اور حلقوں کے مفادات کا مؤثر طریقے سے تحفظ کرنا ہے۔
درحقیقت جب جمہوریت اور انسانی حقوق کی بات آتی ہے تو ’’فائیو آئیز الائنس‘‘ والے ممالک ’’استاد‘‘ بننے کے اہل نہیں ہیں۔ انہیں سب سے زیادہ جو کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ وہ آئینہ لیں اور انسداد وبا اور نسلی امتیاز کے حوالے سے اپنی گھریلو ناکامیوں کا اچھی طرح سے جائزہ لیں۔ایک طرف وہ اپنے معاملات کو نظر انداز کرتے ہیں، دوسری طرف چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کے شہریوں کے حقوق اور آزادیوں کا خیال رکھنےکی بات کرتے ہیں، یہ انتہائی منافقانہ طرز عمل ہے!