چین، ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کے تحت ہانگ کانگ کی جمہوری ترقی پر وائٹ پیپر کا اجرا

بیجنگ (آئی این پی)چین کی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات نے ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کے تحت ہانگ کانگ میں ’’جمہوری ترقی‘‘ کے عنوان سے ایک وائٹ پیپر جاری کیا، جس میں ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں جمہوریت کے ظہور اور ترقی کا جامع جائزہ لیا گیا، اور ہانگ کانگ کی جمہوری ترقی پر مرکزی حکومت کے اصولی موقف کی مزید وضاحت کی گئی۔
وائٹ پیپر میں نشاندہی کی گئی کہ برطانوی نوآبادیاتی دور میں ہانگ کانگ میں جمہوریت نہیں تھی۔ چینی حکومت نے ہانگ کانگ کا اقتدار اعلیٰ واپس لیا ، ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کی پالیسی کو نافذ کیا ، ہانگ کانگ کا جمہوری نظام تشکیل دیا ، اور عملی طور پر اس کی مسلسل ترقی اور بہتری کی حمایت کی ہے۔ ہانگ کانگ میں جمہوریت کے قیام کے لیے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور چینی حکومت کا عزم، خلوص اور زبردست کوششیں پائیدار ہیں اور یہ سب پر عیاں ہے۔
وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں ہانگ کانگ کے خلاف چین مخالف قوتوں نے ہانگ کانگ کی حکمرانی پر قبضہ کرنے اور ’’رنگین انقلاب‘‘ برپا کرنے کے لئے ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کے اصول کو چیلنج کیا ، ہانگ کانگ کے قانون ساز نظام اورنظم و نسق کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ، قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالا اور ہانگ کانگ کی خوشحالی اور استحکام کو سبوتاژ کیا۔ حقائق نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ ہانگ کانگ میں خلل ڈالنے والی چین مخالف قوتیں اور ان کے پیچھے چین مخالف بیرونی قوتیں ہی ہانگ کانگ میں جمہوریت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور چینی حکومت کی ایک عظیم پیش رفت کے طور پر ہانگ کانگ میں ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کے عمل نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے، جس کی بڑی قوت نمایاں ہو گئی ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور چینی حکومت کے پاس اعتماد، دانشمندی اور صلاحیت ہے کہ وہ سوادِ اعظم کے ان علاقوں کا انتظام اور تعمیر کر سکے جہاں سوشلسٹ نظام نافذ ہے، اور ہانگ کانگ کے انتظام اور تعمیر کو بخیر و خوبی آگے بڑھا سکے جہاں سرمایہ دارانہ نظام نافذ ہے۔ہانگ کانگ میں ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ کا نفاذ یقیناً بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔