چین میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

بیجنگ (آئی این پی)چین کی وزارت تجارت نے کہا کہ رواں سال جنوری سے نومبر تک چین میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 15.9 فیصد اضافے سے 1.04 ٹریلین یوآن یا 157.2 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔وزارت تجارت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چین کے سروس سیکٹر میں سرحد پار سرمایہ کاری کی آمد میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 17 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ہائی ٹیک صنعتوں کے حوالے سے ایف ڈی آئی میں 19.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ ممالک اور آسیان کی جانب سے چین میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں اضافے کا تناسب بالترتیب 24.7 فیصد اور 23.7 فیصد رہا۔چین نے غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق منفی فہرست کو مزید مختصر کرنے، غیر ملکی مالی اعانت سے چلنے والے اداروں اور منصوبوں کے لیے خدماتی سہولت فراہم کرنے اور عالمی سطح پر اپنی مارکیٹ کے مواقع کو بانٹنے کے لیے قانون پر مبنی، بین الاقوامی اور با سہولت کاروباری ماحول کو مزید فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔چین نے ٹیرف کی مجموعی شرح کو 15.3 فیصد سے کم کر کے 7.4 فیصد کر دیا ہے، جو کہ عالمی تجارتی تنظیم کے ساتھ کیے گئے 9.8 فیصد کے وعدے سے کم ہے۔
چین نے رواں سال ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ پر کراس بارڈر ٹریڈ ان سروسز کے لیے منفی فہرست متعارف کروائی ہے تاکہ آزادانہ سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے اور غیر ملکی سرمایہ کاری تک رسائی کو بڑھایا جا سکے۔