روسی وزیرخارجہ کی امریکہ کے جمہوریت سمٹ اقدام پر کڑی تنقید

ماسکو: روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایک تقریب میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے جمہوریت سمٹ کے انعقاد کا مطلب ،جمہوریت کے بارے میں اپنا نظریہ دوسروں پر مسلط کرنا ہے جبکہ اس حوالے سے دوسرے ممالک کی خود مختار مساوی حیثیت کو قبول نہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی من مانی کرتے ہوئے جمہوریت سمٹ میں 110 ممالک کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔واشنگٹن نے خود ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ کون جمہوری ہے اور کون نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ امریکی پالیسی کا مقصد جمہوریت کے بارے میں واشنگٹن کے نظریہ کو فروغ دینا ہے اور ایسے ہر بین الاقوامی تعاون کو مسترد کرنا ہے جو واقعی جمہوری ہو۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت امریکہ کے اپنے وعدوں کے برعکس ہے ۔

امریکہ کو چاہیے کہ دوسروں کو منظم جمہوریت کا طریقہ سکھلانے سے قبل بین الاقوامی تعلقات میں جمہوریت کے بارے میں بات کرے۔اطلاعات کے مطابق امریکہ کی میزبانی میں نو سے دس دسمبر تک جمہوریت سمٹ کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں تائیوان خطے سمیت مجموعی طور پر 110 ممالک اور خطوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ تاہم اس فہرست میں چین اور روس دونوں شامل نہیں ہیں۔ لاوروف نے اس قبل کہا تھا کہ جمہوریت سمٹ کا مقصد "عوام اور ممالک کو جمہوری اور غیر جمہوری میں تقسیم کرنا ہے۔”