روسی صدر نے چین کے خلاف مغربی پابندیوں کو بے بنیاد قرار دے دیا

ماسکو:روسی میڈیا اداروں کے مطابق صدر پوتن نے 30 نومبر کو سالانہ بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم میں کہا کہ چین کے خلاف مغرب کے اقدامات کو سمجھنا بعض اوقات نہایت مشکل ہے۔انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ مغرب کی چین کے خلاف مختلف پابندیاں بالکل بے بنیاد ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی نفی بھی ہیں۔

پوتن نے مزید کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کا تشکیل شدہ سہ فریقی سیکورٹی اتحاد ، چین کے خلاف مغربی اقدامات کی ایک تازہ مثال ہے۔ اس اقدام سے خطے کی صورتحال میں تو کوئی بہتری نہیں آئے گی البتہ اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔

"دی بیلٹ اینڈ روڈ” انیشیٹیو کے حوالے سے ماسکو ، بیجنگ کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ پوتن نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان بی آر آئی فریم ورک کے تحت وسیع تعاون جاری ہے اور اسے دیگر ممالک تک وسعت دی گئی ہے۔ اس حوالے سے دونوں ممالک کا موقف اور اصول تقریباً یکساں ہے۔

چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ روس کسی تیسرے ملک کے مفادات کی ترجمانی نہیں کرے گا۔ روس کی اولین ترجیح روسی عوام اور روس کے مفادات ہوں گے۔ پوتن نے روس چین تعلقات کے ترقیاتی درجے پر اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے 2022 کے بیجنگ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کا عندیہ بھی ظاہر کیا۔