سی پیک کی موثر نگرانی کیلئے پاکستانی پارلیمنٹ اور نیشنل پیپلز کانگریس کے ممبران پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام پر اتفاق

اسلام آباد (آئی این پی )سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے چیئرمین لی ژانشو کے مابین ویڈیو لنک کے ذریعے ہونے والے ورچوئل اجلاس میں سی پیک کی موثر نگرانی کے لئے پاکستانی پارلیمنٹ اور نیشنل پیپلز کانگریس کے ممبران پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا گیا ہے۔ دونوں رہنماں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے موجودہ دوطرفہ تعلقات اور معاشی تعاون کو تقویت دی جا سکتی ہے۔ دونوں پریذائیڈنگ افسران نے اپنی متعلقہ سیکرٹریٹس کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لئے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ اسپیکر اسد قیصر کے ہمراہ ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری ، چیئرمین سی پیک کمیٹی شیر علی ارباب، چیئرمین خارجہ امور کمیٹی احسان اللہ ٹوانہ، کنوینر پاک چین دوستی گروپ نور عالم خان اور دیگر ممبران قومی اسمبلی موجود تھے جبکہ چیئرمین این پی سی کے ہمراہ ڈپٹی اسپیکر نیشنل پیپلز کانگریس اور امور خارجہ اور قانون سے متعلق کمیٹیوں کے چیئر مین میٹنگ میں موجود تھے۔ یہ ورچئل میٹنگ COVID-19 کے پھیلنے کے بعد پاکستان اور چین کے پارلیمان کے پریذائیڈنگ افسران کے مابین پہلا اعلی سطحی رابطہ ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ پاکستان چین کو اپنا سب سے قریبی دوست، مضبوط ترین شراکت دار اور آہنی بھائی سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین تعلقات میں مستقل ترقی بھائی چارگی کی منفرد مثال ہے۔ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کو چین پاک سفارتی تعلقات کے قیام کی 71 ویں سالگرہ اور چینی نئے سال پر مبارکباد پیش کی۔ اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان چین کی علاقائی سالمیت پر یقین رکھتا ہے اور ون چین پالیسی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی اور علاقائی فورمز پر چین کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خاتمے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بین الاقوامی برادری کا تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر چین کی غیر متزلزل حمایت کو پاکستانی عوام اور حکومت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ چیئرمین نیشنل پیپلز کانگریس لی ژانشو نے کہا کہ چین پاکستان کو اپنا بھائی اور قریبی اسٹریٹجک اتحادی تصور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کے دفاع اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لئے ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ ۔19 سے چین کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خصوصا پاکستانی پارلیمنٹ کی حمایت نے اس بیماری سے لڑنے کے لئے چینی حکومت کو حوصلہ دیا۔ انہوں نے اسپیکر کو یقین دلایا کہ پاکستان کو کوڈ – 19 ویکسین کی فراہمی چینی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ چیئرمین نیشنل پیپلز کانگریس نے سی پیک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک دونوں ممالک کی معیشتوں کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے خطے میں دہشتگردی کی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ، سی پیک کی سیکیورٹی کی ضرورت پر زور دیا۔ اسپیکر اسد قیصر کی تعریف کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ بحثیت اسپیکر کے پی کے اسمبلی اور بعد میں اسپیکر قومی اسمبلی کی حیثیت سے سی پیک اور اس کے خصوصی اقتصادی زون کے قیام کے لئے ان کی حمایت مثالی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ اور سی پیک کے تحت دیگر منصوبے پاکستان میں معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ سی پیک بلاشبہ پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا اور سی پیک کے تحت منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے مربوط طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور رشاکئی خصوصی اکنامک زون جلد فعال ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے خاص طور پر صوبہ کے پی کے اور عمومی طور ہر ملک میں روزگار کی فراہمی کے علاہ معاشی سرگرمیںوں میں اضافہ ہو گا۔ اسپیکر نے سی پیک منصوبوں کی موثر نگرانی کے لئے پاکستانی پارلیمنٹ پاور نیشنل پیپلز کانگریس کے ممبران پر مشتمل ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کی تجویز پیش کی۔ دونوں رہنمائوں نے قائمہ کمیٹیوں اور پارلیمانی دوستی گروپس کی سطح پر باہمی پارلیمانی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ 19 بیماری ختم ہونے تک دونوں ممالک کے مابین رابطوں کا فروغ ورچئل اجلاس کے ذریعے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے پاکستان چین کے سفارتی تعلقات کی 71 ویں سالگرہ پر ممبران قومی اسمبلی اور نیشنل پیپلز کانگریس کے مابین ورچوئل میٹنگ کے انعقاد پر اتفاق کیا۔