ہانگ کانگ معاملے پرامریکا سمیت کوئی بیرونی مداخلت ناقابل قبول ہے،چین

بیجنگ(آئی این پی/شنہوا)چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور مرکزی کمیٹی کے خارجہ کمیشن کے دفتر کے سربراہ یانگ جے چھی نے ہانگ کانگ کے امور کے حوالے سے شِنہوا نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیا۔یانگ جے چھی نے کہا کہ ہانگ کانگ کی واپسی کے بعد "ایک ملک دو نظام”،” ہانگ کانگ کی حکمرانی ہانگ کانگ کے عوام کے ہاتھ میں” اور اعلی معیاری خود مختاری کی پالیسی پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔حقائق سے یہ ثابت ہوچکاہے کہ ایک ملک دو نظام نا صرفہانگ کانگ کے مسئلے کے حل کے لئے بہترین منصوبہ ہے بلکہ واپسی کے بعد ہانگ کانگ کی پائیدار خوشحالی اور استحکام کے لئے بھی بہترین ہے۔رواں سال جون میںہانگ کانگ کے اندرکچھ شر پسندوں نے پولیس اوران کے دفاتر پرحملے کیے اور پرتشدد راستہ اختیار کیا، جس سے عوامی سلامتی ، سماجی نظام ، معیشت ،عوامی زندگی اور ہانگ کانگ کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا۔چین کی مرکزی حکومت مجرموںکو سزا دینے کے لیے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی حکومت کی حمایت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک کی حکومتیں ہانگ کانگ کے شر پسند وںکی حوصلہ افزائی کی کوشش کررہے ہیں۔ان کا یہ عمل چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔مذکورہ عمل سے چین اور ان ممالک کے درمیان تعلقات کی صحت مندانہ ترقی کو نقصان پہنچے گا۔چین اس حوالے سے شدید مخالفت کا اظہار کرتا ہے۔ہانگ کانگ کے امور چین کا اندرونی معاملہ ہے۔کسی غیرملکی حکومت، تنظیم یافرد کو اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائیگی۔