چینی نمائندے کی یوکرین تنازعہ کے حوالے سے مخالفت پر تنبیہ

گلوبل لنک|چینی نمائندے کی یوکرین تنازعہ کے حوالے سے مخالفت پر تنبیہ

ایک چینی مندوب نے منگل کو خبردار کیا ہے کہ عالمی برادری میں یوکرین کے معاملہ پر محاذ آرائی یو این کے کام کو متاثر کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نائب مندوب دائی بنگ نے ان خیالات کا اظہار سیکورٹی کونسل میں یوکرین کے ایشو پر تشدد کو ہوا دینا بربریت کا باعث بن رہا ہے کے عنوان سے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔

یوکرین میں جاری تنازعہ میں گزشتہ کچھ عرصہ سے عالمی برادری اختلافات کا شکار ہو رہی ہے۔ جس سے مختلف شعبوں میں اقوام متحدہ کے امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور سلامتی کونسل کی اتھارٹی اور افادیت کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس قسم کا سیاسی ماحول یوکرین بحران کے حل کے لیے سازگار نہیں اور عالمی گورننس کی ناکامی کی طرف لے جائے گا اور دنیا مزید انتشار اور خلفشار کا شکار ہو گی جو کسی کے بھی مفاد میں نہیں ۔ ہم سب ایک کشتی کے سوار ہیں۔ ہماری سیکورٹی ناقابل تقسیم ہے۔ سرد جنگ کی ذہنیت، تسلط کی منطق، اور گروہ بندی کی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ہمیں محاذ آرائی کی جگہ مذاکرات، جبر کی جگہ بات چیت، گروہ بندی کی جگہ شراکت داری اور گھاٹے کی جگہ باہمی مفاد کو رواج دینا ہوگا۔ بالخصوص سلامتی کونسل کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں، اختلافات کو حل کرنا چاہئیے، اور امن مذاکرات اور مصالحت کے لیے موثر کردار ادا کرنا چاہئیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ملکوں کے مابین نفرت انگیز تقاریر بین الاقوامی سیاست کے ماحول کو زہر آلودہ کر سکتی ہیں جس سے عالمی امن اورسلامتی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا کو کسی طور بھی نفرت پھیلانے اورتشدد کو ہوا دینے کے لیے غیر قانونی پلیٹ فارم کا کردار ادا نہیں کرنا چاہئیے۔ سماجی رابطوں کے کئی پلیٹ فارم کے محرکات سیاسی ہیں جو یکطرفہ نفرت انگیز تقاریر کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ رواج بہت خطرناک ہے۔ حکومتوں کی جانب سے سوشل میڈیا کی نگرانی بہت ضروری ہے انہیں کھلی چھٹی نہیں دی جانی چاہیے۔ طویل اور پھیلے ہوئے تنازعات سلامتی کے زیادہ خطرات کا باعث اور زیادہ تیز رفتاری سے پھیلیں گے جن کا فائدہ کسی کو نہیں ہوگا۔ کشیدگی میں کمی، آگ کو بجھانے اور امن مذاکرات کے لیے عالمی برادراری کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ فریقین کے مابین مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکے اور بغیر مزید کسی تاخیر کے جنگ بندی ہو سکے۔ ہمارا بعض ملکوں کو مشورہ ہے کہ وہ اپنے جغرافیائی و سیاسی مفاد کے لیے  جلتی پر تیل مت ڈالیں اور عالمی سطح پر تقسیم اور دشمنیوں میں اضافے کے لیے دوسرے ملکوں کو فریق بننے پر مجبور نہ کریں۔