پاکستانی ماہرین کی ایشیا میں سرد جنگ کی نئی کوششوں کی مذمت

گلوبل لنک | پاکستانی ماہرین کی ایشیا میں سرد جنگ کی نئی کوششوں کی مذمت

پاکستان کے کچھ ماہرین نے حال ہی میں ایشیا میں سرد جنگ کی نئی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایشیا کو تنازعات کی بجائے بات چیت اور ترقی کی ضرورت ہے۔

مشرق وسطی کے بہت سے ممالک معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر جنگ سے تباہ ہوئے ہیں، اور وہ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں آسیان ممالک سے سیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ لاکھوں لوگ صرف سرد جنگی سیاست، تفریقی سیاست، سپر پاور کی سیاست کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔  آسیان ممالک کو احساس ہو گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی طاقتوں کے ذاتی مقاصد کے درمیان سینڈوچ نہیں بننا چاہے۔

امریکہ یا دیگر بڑی طاقتوں کو جس چیز کا ادراک کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ جنگ کے نام پر یا کسی بھی وجہ سے ممالک کو تباہ کرنے کے بجائے، ان چھوٹے ممالک کو تجارت، سیاست، بات چیت اور ترقی میں شراکت دار ہونا چاہیے، تاکہ انسانیت کی سب سے بڑی بھلائی کے لیے اچھا ہو۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک نئی سرد جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اور اس میں ترقی پذیر ممالک کو گھسیٹا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ جیسی بڑی طاقتیں مسائل پیدا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اس نے نیٹو کو روس کی طرف دھکیلا، انہوں نے نیٹو کو روس کے مشرق کی طرف دھکیلا تاکہ اس کے مشرقی حصے کو عیاں کیا جا سکے۔ عراق میں، لیبیا میں، شام میں، افغانستان میں ہلاکتوں اور تباہی کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ چنانچہ تقریباً 10 لاکھ لوگ مارے گئے اور کوئی سوال نہیں پوچھا گیا۔ کوئی احتساب نہیں۔ لہٰذا، جب وہ دنیا میں ‘جمہوریت’ کو فروغ دینے کی بات کرتے ہیں تو بین الاقوامی معاملات میں ان کا اپنا رویہ بالکل غیر جمہوری ہے۔