امریکہ کوویڈ-19 سے اموات میں 10 لاکھ کی حد عبور کر گیا

گلوبل لنک | امریکہ کوویڈ-19 سے اموات میں 10 لاکھ کی حد عبور کر گیا

 شی ای، نمائندہ شِنہوا

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق،” ریاستہائے متحدہ میں کوویڈ-19 سے ہونے والی اموات 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہیں۔

یہ دنیا کا سب سے زیادہ کیسز اور اموات کی تعداد کے ساتھ وباء سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، جو عالمی کیسز اور اموات دونوں کا تقریبا 16 فیصد ہے۔ ملک میں وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کے 27 ماہ بعد یہ سنگین حد عبور ہوئی۔

غفلت

یہ بنیادی طور پر حکومتی نظام کے اندر غفلت، اور عزم کا فقدان ہے۔

یقینی طور پر، ذمہ داری کے بغیر کوئی چھٹکارا نہیں ہے. لہذا یہ بنیادی طور پر کوویڈ-19 وباء سے لڑنے کے لئے غیر معقول نقطہ نظر کا نتیجہ ہے، آپ جانتے ہیں۔

یہ وہ چیز ہے جس کی پہلے ہی توقع کی جا رہی تھی، اس وقت سے جب پابندیاں نہیں تھیں۔

انسانی حقوق کی ناکامی۔

یہ ستم ظریفی ہے کہ امریکہ دنیا کا سب سے امیر ملک ہے، لیکن اسے سب سے زیادہ کوویڈ-19 وباء سے متاثر ہوا، جب کہ بہت سے ترقی پذیر ممالک اس طوفان کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہے۔ امریکہ نے وباء سے لڑنے کو ترجیح کے طور پر نہیں سمجھا۔ لہذا، یہ لازم تھا کہ اگر انہوں نے وباء سے لڑنے میں وسائل کا استعمال نہ کیا تو یقینی طور پر لوگوں کو مرنا پڑے گا۔

مارچ 2022

ساؤنڈ بائٹ 4 (چینی/انگریزی تشریح): وانگ وین بن، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان

جیسا کہ تقریبا 10 لاکھ لوگ کوویڈ-19 میں اپنی جان گنوا چکے ہیں۔

ملک کو اپنے انسانی حقوق کی کمی پر گہرا غور کرنا چاہیے۔

نسلی امتیاز

یہ حیران کن یا چونکانے والی بات نہیں ہے کہ اسپانوی اورسیاہ فام اور اس طرح کی اقلیتوں کو کوویڈ-19 وباء کا بری طرح سامنا کرناپڑا ہے یا ان کا نقصان ہوا ہے، یہ وہ چیز ہے جس سے نظام کا پتہ چلتا ہے۔ ہر شعبے میں، آپ کہتے ہیں کہ معیاری تعلیم، آپ جانتے ہیں، صحت، چاہے یہ روزگار ہے، آپ جانتے ہیں، سماجی اور اقتصادی شعبوں میں سیاہ فام، ہسپانوی اور دیگر اقلیتیں انتہائی پسماندہ ہیں کیونکہ یہ سفید فام بالادستی والا معاشرہ ہے۔ لہٰذا، میں سمجھتا ہوں کہ اسے امریکیوں کو بیدار کرنا چاہیے، اس سے ان کو بیدار ہونا چاہیے۔ ورنہ احساس جرم ان کو مار دے گا، امریکہ صرف الفاظ کی حد تک آزاد سرزمین ہو گا اورعملی طور پر نہیں جس پر بات کی جا سکے۔